49

فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج میں جھڑپیں: 55 شہید 2700 زخمی

امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں اور اسرائیلی افواج میں جھڑپوں میں 55 فلسطینی شہید اور 2700 زخمی ہوگئے ہیں، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پیر کی صبح امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے فیصلے کے خلاف ہزاروں فلسطینیوں نے سرحد کی طرف مارچ شروع کیا تو اسرائیلی افواج نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

ابتدائی اطلاعات میں اسرائیلی اخبار ’ہیرٹز‘ نے بتایا کہ مظاہرین کی تعداد پانچ ہزار تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ کر 35 ہزار سے تجاوز کرچکی تھی، مظاہرین کی بڑھتی تعداد پر قابض اسرائیلی افواج اور پولیس نے فائرنگ اور شیلنگ کی جس سے شہدا کی تعداد بڑھ کر55 اور زخمیوں کی 2700 تک پہنچ گئی۔

’ہیرٹز‘ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے 918 زخمیوں کی تصدیق کی ہے جن میں سے 448 کو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ مارچ سے اب تک ان مظاہروں میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

آج امریکی سفارتخانے کا افتتاح اسرائیل کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر رکھا گیا ہے۔ فلسطینی اس دن کو’یوم ناقبہ‘ کے طور پر مناتے ہیں۔

امریکی سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اورداماد جیرڈ کُشنر کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بیت المقدس پہنچ چکا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اسرائیل نے 86 ممالک کے سفیروں کو دعوت دی جن میں سے صرف 33 نے شرکت کی تصدیق کی۔

فلسطینی اتھارٹی نے صورتحال پر غور کے لیے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں