53

“ووٹ کو عزت دو” نواز شریف کا نیا بیانیہ : رئیس احمد صمدانی

اپنی پہلی نا اہلی سے چوتھی نا اہلی تک میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کا بیانیہ ’مجھے کیوں نکالا‘ رہا، وہ اب بھی ہے لیکن اس بیانیے سے خاطر خواہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے اور یہ ایک مزاق بن کر رہ گیا۔

17 اپریل 2018ء کو نون لیگ نے ایک قومی سیمینار بعنوان ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے عنوان سے پاکستان کی قومی لائبریری اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد کیا، سیمینار قومی تو تب ہوتا جب اس میں ہر صوبے، ہر جماعت کی نمائندگی ہوگی۔ اس میں صوبہ سندھ کی نمائندگی صفر تھی۔ پھر بھی قومی سیمینار ٹہرا۔ میاں نواز شریف جو اب مجسم نا اہل شریف ہوچکے ہیں نے اپنا نیا بیانیہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کی تائید ان کے ہم نواں سیاست دانوں خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچک زئی، میر حاصل بزنجو،راجہ ظفر الحق اور اے این پی کے افتخار حسین نے کی، افتخارحسین نے اپنے پارٹی لیڈر اسفند یار ولی کی نمائندگی کی۔ کچھ عرصہ قبل اپنی سیاسی وفاداریاں بدل کر نون لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے سید مشاہد حسین نے بھی اس بیانیے کی مکمل حمایت کی، وہ میاں صاحب کے اس قدر گلے کاہار ہوگئے کہ تمام سینئر پارٹی لیڈروں کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے۔

وہ اسٹیج پر بھی تشریف فرما تھے، ویسے بھی اب وہ نون لیگ کے سینیٹر ہیں، کب تک رہتے ہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ان کی ماضی کی سیاست تو یہی بتا تی ہے۔ میاں صاحب کے اس بیانیہ سے اختلاف کوئی بھی جمہوریت پسند نہیں کرسکتا۔ ووٹ کی عزت کی بنیاد پر ہی تو سیاست داں ملک پر حکمرانی کرتے ہیں، ووٹ کی عزت ہے تو ووٹ دینے والاکس قدر عزت و توقیر کے حامل ہوگا، اس کا احساس بھلا دیا گیاہے، ووٹ کی پرچی جو بیلٹ بکس میں ڈالی جاتی ہے معتبر ٹہری جب کہ اس پرچی کو بیلٹ بکس میں ڈالنے والا جو حقیقت میں وقعت رکھتا ہے ثانوی ٹہرا۔ ووٹ دراصل عوام الناس کی رائے ہے جسے حاصل کر کے ہمارے حکمران بشمول میاں نواز شریف صاحب برسوں حکمرانی کے مزے لیتے رہے ہیں، عوام کے مسائل کو بھول بیٹھے، کرسی بچانے اقتدار کو طول دینا ان کا بنیادی مقصد ٹہرا ہے۔ جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔

یہ ووٹ کی عزت ہی تو تھی کہ ایوب خان محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں معتبر ٹہرے، انتخابات میں کس قدر دھاندلی ہوئی وہ اپنی جگہ، ووٹ کی عزت ہی کے باعث ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مقبولیت کا جھنڈا گاڑا اور ملک کے منتخب وزیر اعظم بنے، یہ ووٹ کی عزت ہی تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک سے زیادہ بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں،یہ ووٹ کو عزت دینا ہی تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار حاصل کیا اور پرویز مشرف سے توڑ جوڑ کر کے جناب آصف علی زرداری پورے پانچ سال صدارت کے منصب پر خوش اسلوبی سے براجمان رہے۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ جناب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوں گے اور اپنی حکمت علمی سے اپنی معیاد بھی خوش اسلوبی سے پوری کریں گے۔ یہ ووٹ کی عزت ہی تو تھی کہ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان گزشتہ 35سال سے پاکستان پر حکمرانی کر رہا ہے۔ ووٹ نے ان حکمرانوں کو جس قدر عزت و احترام دیا، شاید ان کے ذہنوں میں دور دور بھی نہ رہا ہوگا جو انہیں حاصل ہوا۔ انہوں نے ووٹ دینے والوں کو کیا لوٹایا، کیا عزت دی، دور کی بات نہیں کرتے صرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی کریں، عوام نے تو ان دونوں جماعتوں کو عزت دی، توقیر دی، احترام دیا انہوں نے ان ووٹ دینے والے عوام کو کیا لوٹایا۔ کیا پاکستان سے غربت کم ہوگئی، غریب عوام کی حالت بہتر ہوسکی، تعلیم، صحت، روز مرہ مسائل حال ہوسکے۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہوسکی، لوگ پانی کو نہیں ترس رہے، تھر کا کیا حال ہے، روز مرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں نہیں کر رہیں، ہر پنددرہ دن بعد حکومت پیٹرول بم عوام پر نہیں گرا رہی۔ تعلیم یافتہ بیروز گار نہیں پھر رہے، جرائم ختم ہو چکے، بچے اغوا نہیں ہو رہے۔ چوری، ڈاکے، موبائل اسنیچنگ بند ہوگئی۔ عدالتوں میں لوگ سالوں انصاف کے لیے چکر نہیں لگا رہے۔ جو بھی حکمراں اس قوم پر مسلط رہے ٹھنڈے دل و ماغ سے سوچیں کہ انہوں نے عوام کے لیے کیا کیا اور اپنے لیے کیا کیا۔ سابق وزیرخزانہ، جو اب مفرور ہیں نے ملک کا خزانہ خا لی کر دیا، ملک کو مقروض کردیا اپنا ذاتی خزانہ کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ یہ تو ایک مثال ہے۔ اگر احتساب بلا تفریق ہو جائے تو ہمارے حکمرانوں میں 99فیصد اس تالاب میں سابق وزیر خزانہ ہوں گے۔

پاکستان میں میاں نواز شریف کا اقتدار 35 برسوں پر محیط ہے۔جنرل ضیا ء الحق کے زمانے سے میاں صاحب کو عزت ملنا شروع ہوئی اور پنجاب کے گورنر غلام جیلانی خان نے انہیں پنجاب کی کابینہ میں بطور وزیر خزانہ شامل کیا۔ یہ 1980 ء کو دور تھا۔ اس وقت کے حاکموں نے میاں نواز شریف کو عزت بخشی، اقتدار کے مزے ہی کچھ اور تھے، اس سے قبل میاں صاحب اپنے والد کے کاروبار میں مصروف تھے۔ وزارت خزانہ کے بعد ضیاء الحق نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے تو میاں صاحب پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے، دوبار وزیر اعلیٰ رہے۔ یہ بھی اس دور کے حکمرانوں اور عوام کی دی ہوئی عزت ہی تھی،اقتدارکا سلسلہ پنجاب سے وسیع ہوکر پورے ملک تک پھیل گیا اور وہ پہلی مرتبہ 1990 ء میں ملک کے وزیر اعظم بنے اور 1993ء میں انہیں وزارت اعظمیٰ سے رخصت ہونا پڑا، چارسال بعد عوام نے ووٹ کو عزت دیتے ہوئے انہیں دوسری مرتبہ 1997ء میں وزیر اعظم کے منصب پر فائز کیا لیکن اس مرتبہ بھی وہ اپنی مدت مکمل نہ کرسکے اور 1999 ء میں فوجی حکمران نے انہیں رخصت کیا، اس بار ان کی منزل سعودع عرب تھی۔ 2008 ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی، پنجاب میں شریف فیملی کی حکومت ہی قائم رہی، 2013 ء کے انتخابات میں عوام نے میاں صاحب کو تیسری مرتبہ ووٹ کو عزت دیتے ہوئے وزارت اعظمیٰ کے منصب پر فائز کیا لیکن اس بار بھی وہ پوری اننگ نہ کھیل سکے 2017ء میں عدالت عالیہ نے انہیں نا اہل قرار دے دیا۔ اس طرح اقتدار سے ہاتھ دھونے کی منفرد تاریخ رقم کی، شاید مستقبل میں کوئی ایسا نہ کر سکے یعنی وہ ملک کے صدر کے ہاتھو ں وزیرا عظم کے منصب سے ہٹائے گئے، چیف آف آرمی اسٹاف نے انہیں وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے فارغ کیا اور تیسری بار ملک کی اعلیٰ عدالت یعنی سپریم کورٹ نے انہیں اس منصب سے نا اہل کیا۔ فوجی حکمرانوں نے انہیں عزت دی، وزیر اور وزیر اعلیٰ بنے، عوام نے ووٹ کے ذریعہ عزت بخشی وزارت اعظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے لیکن ہر باروہ نکالے گئے، از خود نہیں گئے، استعفیٰ نہیں دیا، انہوں نے نا اہلی کا بھی ریکارڈ قائم کیا، نا اہلی پر نا اہلی، اب حتمی فیصلہ کیا آتا ہے نہیں معلوم۔ عدالتی فیصلے کا انتظار ہے۔ نا اہلی کا سلسلہ شروع ہوامیاں صاحب نے عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کیا، یعنی وزارت اعظمیٰ سے خاموشی سے الگ ہوگئے، شاہد خاں قان عباسی کا اپنا جانشین بنا دیا، پارٹی کی صدارت سے نہ اہل کیے گئے، اس کرسی پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو نامذد کردیا، تیسری نہ اہلی یہ ہوئی کہ عدالت نے قرار دیا کہ میاں صاحب کی نہ اہلی تا حیات ہے۔ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

میاں صاحب ایک جانب عدالت کے احکامات بجالائے، دوسری جانب عوامی سطح پر اپنا مقدمہ بھونڈے انداز سے لڑنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہے۔ عدالت اور اداروں کو نشانہ بنایا، میاں صاحب کے ساتھیوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا عملی مظاہرہ کیا، جس کی پاداش میں نہال ہاشمی کا انجام سب کے سامنے ہے، دیگر شاہ کے وفادار توہین عدالت کے ڈر سے عدالت میں بھیگی بلی، عدالت سے باہر شیر،میاں نواز شریف نے ’مجھے کیوں نکالا کے بعد ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو اپنا بیانیہ بنایا۔ سیمینار جس کا ذکر اوپر کیا گیا، ہم خیال اور اتحادیوں پر مشتمل اجتماع بلا یا نام سیمینار کا دیا گیا۔ یہ بیانیہ ہر سیاسی جماعت کا ہے،کون نہیں جاہتا کہ ووٹ کوعزت نہ دی جائے۔ ہر بہ شعور شہری ووٹ کی عزت اور اپنی توقیرکا خیر خواہ ہے۔ سیمینار کی صدارت مولانا فضل الرحمٰن کر رہے تھے۔ اپنی تقریر میں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے اندر کی بات پوچھی، پنجابی میں، یعنی مولانا صاحب کو بھی کچھ شک ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، اندر ہی اندر کچھ چل رہا ہے، کہیں کوئی ڈیل تو نہیں ہورہی؟ اے این پی کے میاں افتخار حسین نے جذباتی تقریر کی، انہوں نے حاضرین سے عہد لیا کہ ہاتھ اٹھا ئیں کہ وہ آئین و قانون اور ووٹ کی عزت کے لیے جدوجہد کریں گے، سب نے ہاتھ اٹھائے، اس حد تک تو بات درست ہے،لیکن میاں افتخار نے تقسیم کے وقت صوبہ سرحد کی حکومت کو بر طرف کرنے والی بات کی وہ دراصل قائد اعظم کے اقدام کی جانب اشارہ تھا، قائد اعظم نے پاکستان مخالف حکومت کو برطرف کیا تھا، میاں افتخار حسین کانگریسی حکومت کی حمایت کررہے تھے۔ ان کی اس بات کی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ہاتھ اٹھوا کرعہد لینے والی کوئی بات نہیں تھی، یہ اجتماع اے این پی کا اجتماع نہیں تھا،نہ ہی یہ اجتماع پاکستان کی نمائندگی کررہا تھا، نون لیگ نے صوبہ سندھ کے کسی فرد یاجماعت کی شمولیت کو اہم نہ جانا، خیبر پختون خواہ کی حکومت اگر تحریک انصاف کی ہے تو وہ غیر اہم ہوگئی۔ اس موقع پر معروف صحافی کالم نگار حامد میرنے بھی ہاتھ اٹھائے، بقول حامد میر ان کے دائیں جانب بیٹھیں عاصمہ شیرازی، منیزے جہانگیر، اویس توحید، نسیم زہرہ نے بھی ہاتھ اٹھا کر میاں افتخار حسین کے بیانیے کی تائید کی۔ حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’’عاصمہ شیرازی نے میرے حلف کی فلم بنانی شروع کی تو مجھے وضاحت کرنی پڑی کہ یہ حلف میاں افتخار حسین کو دیا گیا ہے کسی اور میاں کو نہیں‘‘۔ میاں افتخار حسین کی پوری تقریر ہی جذبات سے بھر پوری تھی وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ہمیں حیرانی ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو بھی نکال باہر کیا گیااور اب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے اتحادی نہیں لیکن ووٹ کی عزت کے لیے آپ کے ساتھ ہیں۔ سیمینار کی خاص بات تمام مقررین کا فی البدیہہ تقریر کرنا تھا سوائے میاں نواز شریف کے جنہوں نے لکھی ہوی تقریر کی، لیکن بیچ بیچ میں وہ فی البدیہہ بھی بولتے رہے۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں 70سے ووٹ کو عزت نہیں دی گئی، حیرت اور افسوس کی بات ہے کو ووٹ نے نون لیگ کو تین مرتبہ عزت دی جس کے نتیجے میں میاں صاحب وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ اب آپ کو عزت راس نہیں آئی تو اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ آپ یہ کہیں کہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے محمود خان اچکزئی اسٹیج پر براجمان تھے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میاں نواز شریف کی نا اہلی پر ماتم کیا، سخت سست کہا، فرماتے ہیں کہ عوام کی طاقت سے تمام غلط فیصلے الٹے کردیں گے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ترکی کی طرح سڑکوں پر آئیں۔ اچکزئی صاحب دیر کس بات کی ہے، آئیے سڑکوں پر، میاں صاحب سڑکوں پر ہی تو اپنا بیانیہ بیان کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت پلٹ دی گئی، غلط تھا لیکن اچکزئی صاحب نے کیا کر لیا، اس قسم کی باتیں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بلوچستان کے ایک اور سینئر اتحادی میر حاصل خان بزنجو کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والا ہمارے گلے میں پڑگیا ہے، اس نے ساری سیاست کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ واقعی عمران خان بہت سوں کے گلے پڑگیا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم درگزر کر رہے ہیں دوسرے بھی درگزر کریں۔ انہوں نے پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ اس انداز سے بیان کی جس میں وہ مظلوم اور دیگر ظالم ظاہر کیے گئے۔ ان کے تقریر میں سوائے اپنے ساتھ ظلم کی داستان کے کچھ نہ تھا۔ انہوں نے اپنے بیانیے ’مجھے کیوں نکالا ‘ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے عوام اور سیاسی اتحادیوں سے ہمدردی حاصل کرنے کے پرکشش الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ یہ اپنے اس نئے اور پرکشش بیانیے میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کو ہے، دوسری جانب میاں صاحب مریم نواز کے ہمراہ اپنی اہلیہ کی بیماری اور ان کی تیمار داری کے لیے لندن تشریف لے جاچکے ہیں۔ مختلف قسم کی باتیں گردش میں ہیں کہ وہ اب واپس نہیں آنے کے فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں ہی آئے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ واپس آئیں گے، فیصلہ جو بھی آئے گا وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ سیاست اسی اتار چڑھاؤ کانام ہے۔ فیصلہ کچھ بھی ہو ملک میں جمہوری عمل جاری و ساری رہنا ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔

انتخابات وقت پرفیئر اور فری ہونا ضروری ہیں، میاں صاحب تاحیات نا اہل تو ہوہی چکے، پارٹی کی صدارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اب اگر وہ آئندہ انتخابات میں عملی رول پلے نہیں بھی کرتے تو ان کے بے شمار ساتھی موجود ہیں۔البتہ ان کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ کچھ ساتھیوں کو انہوں نے از خود پارٹی اور خود سے دور کردیا ہے جیسے چودہدری نثار، کچھ ہوا کا رخ دیکھ کر دوسری شاخ پر جا بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں،کچھ نے پی ٹی آئی جوائن کرلی ہے۔ یہ کوئی خاص بات نہیں سیاست دان انتخابات کے قریب ہوا کا رخ دیکھتے ہیں اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔انتخات میں عوام جو بھی فیصلہ کریں ہر سیاسی جماعت کو قبول کرنا چاہیے۔ پاکستان کی سیاست سے اگر میاں نواز شریف کا کردار ختم یا مختصر بھی ہوجائے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ سیاست کے افق پر بڑے بڑے لوگ آئے اور اگلے سفر پر جاچکے، ملک قائم ہے اور قائم و دائم رہے گا۔سب سے پہلے پاکستان، سب سے اہم پاکستان، سب سے برتر پاکستان، کسی بھی فردِ واحد کو پاکستان پرسبقت حاصل نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانییہ تحریر جناب پروفیسرڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی لکھی ہوئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“ووٹ کو عزت دو” نواز شریف کا نیا بیانیہ : رئیس احمد صمدانی” ایک تبصرہ

  1. I’m glad that it turned out so effectively and I hope it will continue in the future because it is so worthwhile and meaningful to the community. kfbekdfkbgfk

اپنا تبصرہ بھیجیں