’’ جب بابا مرے تھے تب کھانا آیا تھا ۔ ۔ ۔ اب بھائی مرے گا تب کھانا آئے گا ‘‘

KaprayWapray.com

 

ایک فیملی تھی بہت ہی غریب

اس فیملی میں چار لوگ تھے

ماں، باپ، لڑکا اور ایک لڑکی

بچوں کی عمر جس میں لڑکا چھ سال کا اور لڑکی چار سال کی تھی

ان کے والد کی طبعیت خراب رہتی تھی تو پیسہ کما نہیں سکتے تھے

اوپر والے کا کچھ ایسا کرنا ہوا کہ باپ کا انتقال ہو گیا

اس فیملی میں بچے تین لوگ جس میں ماں، لڑکی اور لڑکا

جب باپ کا انتقال ہوا تو ان کے پڑوسیوں نے مل کر کھانا کیا

ان کے گھر کھانا آگیا سب نے کھایا اس کھانے میں تین چار دن گزر گئے

اس کے بعد ان کے حالات اور زیادہ خراب ہوتے رہے

ماں نے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کچھ لوگوں سے ادھار مانگا

یہ ادھار کب تک چلتا پانچ سے سات دنوں میں وہ پیسے بھی ختم ہو گئے

کیوں کہ انسان ہے ضرورت رہتی ہے پیٹ کو بھرنے کی

اب حالات اور خراب ہو گئے ، بچوں کو بھوک لگنے لگی

لیکن ماں جہاں جہاں سے پیسے لے سکتی تھی لے چکی تھی

اور اب ماں کو امید بھی نہیں تھی کے کہیں اور سے پیسے ملیں گے

یہ مایوس ماں اور اس کے دو بچے

اب بات کو لے کر پریشان تھے کہ کھانا کہاں سے کھائیں گے

ایک دب اور نکل گیا جاگتے اور بھوکے رہتے

لیکن کب تک نیند بھی آرہی تھی

تو بھوکے ہی سو گئے

تو رات میں تین بجے اس چھوٹی سی بچی کی انکھ کھل گئی

اور اس سے بھوک برداشت نہیں ہوئی

وہ اٹھ کر اپنی ماں کے پاس گئی اور اس سے بولی

’’ ماں ہمارا بھائی کب مرے گا ‘‘

ماں نے اس بچی سے کہا کہ تو ایسے کیوں کہ رہی ہے

تو اس بچی نے بھری ہوئی انکھوں سے ماں کو دیکھا اور بولی

’’ جب بابا مرے تھے تب کھانا آیا تھا ۔ ۔ ۔ اب بھائی مرے گا تب کھانا آئے گا ‘‘

یہ سننے کے بعد ماں رونے لگی اور اپنی بچی کو گلے سے لگا لیا

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

یہ ایک سچی کہانی ہے جو ایک ماں نے مجھے اس وقت سنائی جب مجھے اس گھر کا پتہ چلا اور میں راشن کا ایک تھیلا لے کر ان کے گھر گیا۔ وہ بچے مجھے ایسے دیکھ رہے تھے کہ جیسے کوئی مر گیا ہو۔ اوپر والا بھی کبھی کبھی ایسی چیزیں دیکھا دیتا ہے کہ بس اس کا شکر ادا کرنے کے لئے نہ الفاظ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہم اس قابل کہ اس کا شکر ادا کر سکیں۔

خیر جب میں اگلے مہینے رازن دینے کے لئے ان کے گھر گیا تو اس عورت نے مجھ سے بولا کہ بیٹا تم مجھے کسی کام پر ہی لگوا دوں مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے کہ تم اس مہینے بھی آگئے راشن دینے۔

میں نے ان سے پوچھا کیا کر سکتی ہیں آپ کوئی کام آتا ہے تو بتا دیں میں کوشش کرلوں گا کہ آپ کو کام مل جائے۔

عورت بولی میں صفائی سترائی ، جھاڑو پوچھا ، برتن اور کپڑے دھونے کا کام کرلوں گی اور مجھے سیلائی کھڑائی بھی آتی ہے لیکن میرے پاس سلائی مشین نہیں ہے۔

میں نے سوچا کہ لوگوں گھر پر کام تو میں دلوا نہیں سکتا انکو کیوں کہ میری اتنی بات چیت نہیں ہے ہاں سیلائی مشین خرید کر ان کو دے دی اور اپنے ایک دوست جو لیڈیز ٹیلر ہے اس سے انکو کچھ کپڑے بھی دلوا دئے تاکہ ان کا کام بھی شروع ہو جائے۔

میں اگلے مہینے پھر راشن لے کر ان کے گھر گیا تو انہوں نےصاف منع کردیا راشن لینے سے میں نے بولا کہ کیوں کیا کوئی غلطی ہو گئی مجھ سے یا میرے دوست جس سے کپڑے دلوائے تھے اس نے کچھ کر دیا۔

تو وہ عورت رہنے لگی اور بولی کہ اللہ تم کو خوش رکھے اور تم کو ہر برائی سے بچائے اور لمبی عمر اتا کرے۔ آمیں

عورت نے کہا اب مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تم کسی ضرورت مند کو دے دینا مجھے محلہ سے کافی کام مل گیا ہے اور اب میرا اور بچوں کا گزر بسر آرام سے ہو جاتا ہے۔ تمھارا بہت بہت شکریہ بیٹا۔

یہ کراچی کے علاقے بفرزون کا واقعہ ہے وہ دن ہے اور آج کا دن میں ان کے گھر نہیں گیا۔ یہ واقعہ لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم خود کیا ہیں وہی ہماری پہچان ہوتی ہے نہ کہ ہم دوسروں کو دیکھیں اور ان کے بارے میں باتیں کریں۔

دو دن پہلے حلات خراب ہوئے گاڑیاں نہیں چل رہی تھیں میں دوست کے ساتھ ایک جگہ گیا تھا لیکن واپسی میں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا روڈ کہ کنارے کھڑا ہو کہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ اپنی بائیک لے آتا تو اچھا تھا ۔

اتنے میں ایک کار آکر پاس رکی وہ کار ایک لڑکا چلا رہا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ماں بیٹھی ہوئی تھیاور پیچھے ایک پیاری سی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی اس نے دروازہ کھولا اور بولی اندر آجایئں آپ کو جہاں جانا ہے میں چھوڑ دیں گے۔

میں بڑا حیران ہوا کہ اس خراب حالات میں یہ مجھے لفٹ دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ واہ کیا بات ہے ایسے بھی لوگ ہیں کراچی میں۔۔۔۔!

گاڑی تھوڑی دور چلی تو اس نے پوچھا کیسے ہیں آپ ؟ میں پھر چوک گیا اور بولا کیا آپ مجھے جانتی ہیں َ؟

اس لڑکی نے بولا جی میں آپ کی شکل زندگی بھر نہیں بھول سکتی اور ویسے بھی آپ بدلے کہاں ہیں صرف داڑھی تو رکھی ہے آپ نے۔

میں نے بولا میں نے آپ کو نہیں پہچانا بیٹا کیا آپ بتائیں گی کہ آپ کون ہیں ؟

اس لڑکی نے جواب دیا میں وہ لڑکی ہو جس کو آپ نے ایک دفعہ بولا تھا کہ

جب اس نے پیدا کیا ہے تو رزق بھی وہی دے گا اس کے لئے کسی سے ایسا بولنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مرے گا تو کھانا آئے گا۔

میری انکھ بھر آئی اور پھر میں نے ایک دفعہ اوپر کی طرف دیکھا اور بولا تیرے کھیل بھی عجیب ہیں انسان سوچ بھی نہیں سکتا وہ کر جاتا ہے تو بے شک تو سب کو پالنے والا ہے اور کس کی کہاں سے مدد فرماتا ہے بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔

یہ کہانی لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جو ہم کرتے ہیں زندگی میں ویسہ ہی ہوتا ہے ہمارے ساتھ تو ہمیں ہمیشہ اچھا ہی کرنا چاہئے دوسروں کے ساتھ۔

دعا کا طالب سید محمد زیشان

اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں نیچے دیئے ہوئے کمنٹ باکس میں شکریہ

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.