33

مسلم لیگ (ن) کا تاحیات قائد اورنیا صدر

21فروری 2018ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے آخر کار بڑے میاں صاحب اور نون لیگی قیادت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب کوئی اخلاقی یا قانونی راستہ ایسا نہیں جس پر عمل کرتے ہوئے بڑے میاں نواز شریف نون لیگ کے صدر بھی رہ سکیں۔یہی کام اگر اس وقت ہوجاتا جب پہلی بار میاں نواز شریف نا اہل ہوئے تھے تو انہیں خودکو اور پارٹی کو یہ رسوائی نہ اٹھانا پڑتی۔ اب میاں شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر اور میاں نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد منتخب کر لیاگیا۔ یہ مدت 45 دن کی ہے اس کے بعد وہ مستقل صدر منتخب کر لیے جائیں گے۔رانا ثنا اللہ درست کہتے ہیں کہ پارٹی بیانیہ وہی ہوگا جو میاں نواز شریف کہیں گے، یہی بات مشاہد اللہ خان صاحب نے فرمائی کہ میاں نواز شریف صدر ہوں ، قائد ہوں اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، وہ کچھ نہ بھی ہوں تب بھی پارٹی کے سب کچھ وہی ہیں۔بات دونوں رہنماؤں کی درست ہے۔ اب جب کہ نواز شریف صدر نہیں رہے وہی کچھ ہوگا ، وہی کچھ چلے گا جو بڑے میاں صاحب کی مرضی اور خواہش ہوگی۔

اگر وہ پہلے ہی جب وزارت اعظمیٰ سے نااہل قرار دیے گئے تھے باشاہ سلامت بننے کے بجائے بادشاہ گر بننے کو فوقیت دیتے تو وہ انرجی اور رسہ کشی جو انہوں نے اس دوران کی وہ کسی اور اچھے مقصد میں صرف کی جاسکتی تھی۔ وزارت اعظمیٰ کے لیے شاہد خاقان عباسی کا انتخاب ، نواز شریف کا فیصلہ تھا،کیا اس میں کسی اور نون لیگی کی مرضی شامل تھی نہیں ہرگز نہیں۔ تمام کام ہونے ہی میاں صاحب کی مرضی سے ہیں تو پھر اس بکھیڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب بھی تو شہباز شریف کے سر سے پنجاب کے طاقت ترین تاج کے ساتھ ساتھ انہیں پارٹی کے صدر کی اہم ذمہ داریاں بھی انجام دینا ہوں گی ایسی صورت میں اگر وہ پنجاب کی حکومت کاتاج اپنے سر پر بر قرار رکھتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انصاف نہ تو صدارت سے ہوگا اور نہ ہی پنجاب میں ان کی وہ کارکردگی رہے گی۔ اگر پنجاب کا تاج کسی اور کے سر پر سجا دیا جاتا ہے تو وہ کون رستم پنجاب ہوگا۔ کیا شریف خاندان اپنے خاندان سے باہر کسی کو یہ تاج دے سکے گا؟ ، اگر نہیں اور باپ کے سرکا تاج بیٹے کے سر پر سچادیا جاتا ہے تو اس سے نون لیگ اورشریف خاندان کو مزید سیاسی مشکلات اور تنقید کا نشانہ بنا یا جاسکتا ہے۔ شریف خاندان سے باہر کون ہوسکتا ہے ۔ اس وقت شہباز شریف کے نذدیک تر لوگوں میں رانا ثناء اللہ ہی نظر آتے ہیں۔ کیا وہ اس کے اہل ہیں، ان کی کارکردگی انہیں شہباز شریف کا جانشین بنا سکے کی۔ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ابھی نون لیگ کی صدارت کا تاج شہباز شریف کے ماتھے کا جھومر بنا بھی نہیں تھا کہ پنجاب بیورو کریسی کے اہم افسر احد چیمہ کو نیب نے گرفتار کر لیا، بیورو کریٹ کی گرفتاری کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی لیکن اس معاملے کو پنجاب کی حکومت نے غیر معمولی اہمیت دی اور بیورو کریٹس کی ہڑتال کرنے میں سرد معاونت کی۔ احد چیمہ کو شہباز شریف کا فرنٹ میں بھی کہا جارہا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ بیوروکریٹ مختلف پروجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے اچھی شہرت کا مالک ہے لیکن نیب نے اس پر کچھ سوچ سمجھ کر ہی ہاتھ ڈالا ہوگا۔ اس مسئلہ پر شہباز شریف الجھے ہوئے تھے کہ اسی دوران پارٹی صدارت ان کے گلے کا ہار بن گی۔ بیورو کریٹس کے حوالے سے ایک نام فواد حسن فواد کا بھی لیا جارہا ہے جسے مرکز اور ایوان وزارت اعظمیٰ میں مضبوط ترین بیورو کریٹس سمجھا جاتا ہے۔ ان کا نام بھی کچھ معاملات میں لیا جارہا ہے۔سینئر کالم نگار اور پی ٹی وی کے سابق چیئ مین عطا ء الحق قاسمی صاحب اپنے کسی کالم میں فواد حسن فواد کے بارے میں یہ بات لکھ چکے ہیں کہ فواد حسن فواد مستقبل میں مسعود محمود ثابت ہوسکتے ہیں۔

مسعود محمود وہ شخص تھا جو ذوالفقارعلی بھٹو کے خلا ف سلطانی گواہ بن گیا تھا اس کی گواہی کی وجہ سے بھٹو صاحب کو بھانسی کی سزا ہوئی۔ احد چیمہ کو بھی عمران خان طوطا کہہ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دن میں یہ اندر کی کہانی اگل دے گا۔ یعنی یہ میاں شہباز شریف کے خلاف بہت کچھ سامنے لاسکتا ہے۔یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن مسلم لیگ نون کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جارہی ہیں، ایک کے بعد ایک الجھن سامنے آرہی ہے۔ نون لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منگل 26 فروری کو لاہور میں ہوا جو ایک اعتبار سے بہت اہم تھا کہ اس میں میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو نون لیگ کے صدر کے نامز د کیا اور میاں شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی جان کا نام نون لیگ کے تاحیات قائد کے طور پر تجویز کیا جسے تمام نون لیگ کی لیڈر شپ نے تالیاں بجا کر منظور کیا۔

قرار داد پارٹی کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق نے پیش کی۔ پارٹی کے اس اہم اجلاس میں چودہدری نثار کی غیر موجودگی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ جب کہ دیگر تمام رہنما بشمول شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، حمزہ شریف اجلا س میں موجود تھے۔ کہا جارہا ہے کہ چودہدری نثار کو اس اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیا، اسی دوران میاں نواز شریف کا ایک بیان بھی میڈیا میں چلا جس میں چودہدری نثارکے بارے میں انہوں نے کچھ ارشاد فرمایا جس کی فوری نفی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعہ کی انہوں نے لکھا”The statement on media being attributed to MNS, about Chaudhry Nisar Sb. is absolutely fals” اب کچھ بھی وضاحت کی جائے چودہدری نثار کی اہم اجلاس میں غیر موجودگی تو کئی سوالات اٹھارہی ہے۔ چودہدری نثارکے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ یعنی چودہدری نثار ایک دو دن میں اس کی وضاحت فرمائیں گے۔ کوئی ایک ماہ قبل چودہدری نثار اپنی پریس کانفرنس میں اس بات کا عندیہ تو دے چکے ہیں کہ وہ شہباز شریف کے ماتحت تو کام کر سکتے ہیں لیکن مریم نواز یا کسی اور جونئر کو سر یا میڈم نہیں کہہ سکتے ۔ چودہدری نثار کے خواجہ آصف اور پرویز رشید کے اختلافات بھی سب کے سامنے ہیں۔ چودہدری نثا ر اور نوز شریف کی دوریاں کیا رنگ لاتی ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ چودہدری نثار اور نون لیگ کے مابین تعلقات جس سطح تک منفی ہوچکے ہیں یہ زیادہ عرصہ ساتھ چلتے نظر نہیں آرہے۔ ان کی راہیں جداہوجانی ہی ہیں ۔ کب اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

نواز شریف کی گفتگو جو انہوں نے پارٹی کا تاحیات قائد منتخب ہونے کے بعد کی، میں کسی قسم کی لچک دکھائی نہیں دی، یہ صورت ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کے لہجے میں بھی تھی ۔ جب کہ نومنتخب قائم مقام صدر میاں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شریف کا بیانیہ بڑے میاں صاحب سے مختلف پہلے بھی تھا ، شہباز شریف نے جو تقریر کی اس میں ان کا بیانیہ وہی تھا جو پہلے بیان کر چکے جب کہ میاں نواز شریف اپنے بیانیے پر بدستور قائم اور ٹکراؤ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عابد شیر علی کا ٹوئیٹ تھا کہ ’فیصلہ نہ منظور‘، خرم دستگیر خان نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ ہمارے سروں پر نواز شریف کا سایہ ہمیشہ قائم رکھے‘‘۔

سینٹ کے انتخابات قریب تر ہیں، ملک کا سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہے اور بے یقینی کی کیفیت ظاہر کررہا ہے۔ سینٹ کے بعد عام انتخابات بھی بہت دور نہیں۔ موجودہ صورت حال میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں۔ انتخابات وقت مقررہ پر ہوسکیں گے ؟ سینٹ کے انتخابات کا نتیجہ کیا ہوگا؟ نون لیگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، عمران خان اپنی تیسری شادی کے بعد نون لیگ پر تیر و نشتر برسانے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے پارٹی اجلاس کر چکے ہیں، یعنی انہیں کامل یقین ہے کہ عام انتخابات وقت مقررہ پر ہی ہوں گے۔ اللہ کرے ایسا ہو، پراگندہ سیاست کے بادل چھٹ جائیں، سیاسی فضا صاف ستھری ہوجائے۔ سیاست داں ملک اور عوام کی بہتری اور بھلائی کا سوچیں اور بہتری کے کام کریں۔

پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانییہ تحریر جناب پروفیسرڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی لکھی ہوئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں