پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  ( ایف اے ٹی ایف )کو آگاہ کیا

KaprayWapray.com

پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  ( ایف اے ٹی ایف )کو آگاہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے تمام اقدامات کرچکے ہیں۔اسلام آباد میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات 19 اکتوبر تک جاری رہیں گے اور اس دوران یہ وفد چاروں صوبوں کا بھی دورہ کرے گا۔

وفد 21 اکتوبر کو اپنی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو پیش کرے گا۔مذاکرات کے پہلے روز ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ میں امریکہ، برطانیہ، چین، ترکی، مالدیپ اور انڈونیشیا کے تکنیکی ماہرین شامل ہوئے جبکہ پاکستان کی طر ف سے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ایف آئی اے ، نیب،  ایف بی آر ، ایس ای سی پی اور دفتر خارجہ کے حکام علیحدہ علیحدہ شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق وفد کو حکومت پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پیش کردہ 27 مطالبات پر عمل درآمد کے بارے بریفنگ دی گئی۔ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت ، منی لانڈرنگ ، اسمگلنگ اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل روکنے کیلئے اٹھائے جانے و الے اقدامات کے بارے وفد کے سوالوں کے جوابات دیئے۔

پاکستانی حکام نے وفد کو بتایا کہ اس سلسلے میں قوانین میں ترامیم کر دی گئی ہیں کچھ ترامیم کی جا رہی ہیں جو اسی سال کے دوران مکمل ہو جائیں گی۔مذاکرات کے دوران ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے انتظامی و قانونی اقدامات اور اداروں کی جانب سے ان پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی اور 21 اکتوبر تک پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ کرنے کی سفارشات مرتب کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے منی لانڈرنگ قوانین میں مجوزہ ترامیم سے وفد کو آگاہ کیا اور موقف اپنایا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی سزائیں بڑھائی جائیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم کی منظوری کے بعد پاکستان دوسرے ممالک کو درکار معلومات فراہم کرے گا، ترامیم کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ سے منظور کرائی جائیں گی اور ان ترامیم پر اسی سال عملدرآمد ہوگا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے تمام اقدامات کرچکا ، سلامتی کونسل کے رولز 1276,1373 پر پاکستان عملدرآمد یقینی بنائے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایشیا پیسفک گروپ کے چند حکام نے پاکستان کا دورہ کرکے فائنل مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی تھی جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر ریگولیشنز 2018 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جب کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق ریگولیشنز میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے منی ٹریل کی نشاندہی کے لیے مختلف تجاویز کی بھی منظوری دی گئی ہے اور مبینہ مشکوک مالی سرگرمیوں میں ملوث الرحمان ٹرسٹ نامی تنظیم کو بھی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔

Facebook Comments

Comments are closed.