ہوا کا کم دبا و سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ڈی جی میٹ غلام رسول

KaprayWapray.com

کراچی: خلیج بنگال اور بحر عرب میں ہوا کا کم دباو بن رہا ہے۔ ہوا کا کم دبا و سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ڈی جی میٹ غلام رسول

ہوا کا کم دباو ابتدائی مراحل میں ہے۔ سمندری طوفان بننے کی صورت میں اس کا رخ کہاں ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اگر سمندری طوفان بنتا ہے تو اسے لوبان کا نام دیا جائے گا۔

کراچی پر بڑے سمندری طوفان کا خطرہ منڈلانے لگا، محکمہ موسمیات نے بھی خبردار کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہیں سنجیدگی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دنیا میں بڑھتے ہوئے موسمی خدشات نے ہمارے ملک کو بھی شدید متاثر کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موسم میں شدت پیدا ہو چکی ہے۔

موسم گرما کا دورانیہ بڑھ چکا ہے جبکہ سردی کا دورانیہ کم مگر شدت زیادہ ہوچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے پانی کا بنیادی ذریعہ سمجھے جانے والے گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ گزشتہ حکومتوں نے اس ماحولیاتی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے تاہم اب موجودہ حکومت نے ماحولیاتی اثرات سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر شجر کاری شروع کی ہے

تاہم اس وقت بھی پاکستان میں شدید طوفانوں کا خدشہ بڑھ چکا ہے ۔اس حوالے سے کراچی آنے والے دنوں میں سمندری طوفان کا نشانہ بن سکتا ہے۔اس حوالے سےمحکمہ موسمیات نے بھی خبردار کردیا ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباؤ بن رہا ہے۔ڈی جی میٹ کا کہنا تھا کہ ہوا کا کم دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ہوا کا کم دباؤ ابتدائی مراحل میں ہے۔سمندری طوفان بننے کی صورت میں اس کا رخ کہاں ہوگا،کہنا قبل از وقت ہے۔اگر سمندری طوفان بنتا ہے تو اسے لوبان کا نام دیا جائے گا۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ سمندری طوفان کی شدت 8 اکتوبر تک واضح ہوجائے گی۔

محکمہ موسمیات تمام تر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈی جی میٹ غلام رسول

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.