کے الیکٹرک نے ٹوٹل 57000 ارب روپے نیشنل ایسڈ کو چوری کیا

KaprayWapray.com

کے الیکٹرک نے ٹوٹل 57000 ارب روپے نیشنل ایسڈ کو چوری کیا ۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑا نیشنل ایسڈ ہے کراچی کا ایسڈ ریکور ہو جائے تو پوراپاکستان کا قرضہ ختم ہو سکتا ہے –

کے الیکٹرک کا انتظامیہ ابراج کیپٹل کی مالک نہیں بلکہ یہ تو ایک گواہ کی حیثیت سے معائدے میں شامل ہے کے الیکٹرک کے بارے میں بارے میں یکم اکتوبر 2016 کو ڈی جی رینجر زمیجر بلال اکبر نے کہا تھا کہ آپریشن فیز 2 میں کے الیکٹرک کو شامل کیا گیا تھا اور ساتھ یہ کہا تھا کہ کے الیکٹرک نے پورے کراچی سے کاپروائر بیچ کر سلور کی ناکاروائر لگا کر دی ہے اووربلنگ کر رہی ہے- کے الیکٹرک کا سب سے بڑا لیڈکاپر چوری کا ہے جو کہ پورے کراچی سے اتار کر 800 ارب روپے میں بیچ دیا گیا ہے-

ڈی جی رینجرز سندھ کی گواہی کے بعد بھی کسی بھی ادارے نے کے الیکٹرک کے گوداموں میں جاکر چیک نہیں کیا کہ یہ کارپر ان کے گوداموں میں موجود ہے یا نہیں انڈر گراونڈ زمین سے کاپر والا کیبل نکال کر بیچا گیا اس کی ٹوٹل مالیت 3600 ارب روپے ہے 120ایم ایم گیج کا کیبل جسکی قیمت 1400 روپے فٹ سے 3300 روپے فٹ مالیت ہے اسکی جگہ پر ناکار سلور کیبل لگا کر شہر کراچی کو گندہ کیا جا رہا ہے اور اس ہی ناکار ہ سلور کیبل جو کہ انڈر گراونڈ میں لگا یا جا رہا ہے یہ گرمیوں میں لوڈ اٹھا نہیں سکتا اور فیڈرکی ٹریپنگ کا باعث بنتا ہے او ر اس ہی ناکارہ سلور کیبل لگانے کی وجہ سے بھی 2015 میں ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے 4000 انسانی ہلاکتیں کراچی میں ہو چکی ہیں جس کی تما م ذمہ دار ی کے الیکٹرک کی منیجمنٹ پر عائد ہوتی ہیں –

جو انڈرگروانڈ کیبل نکال کر بیچ رہی ہے اور ناکارہ سلور کیبل لگا رہی ہے کے الیکٹرک کی کرپشن اور چوری کراچی کے شہریوں کے ساتھ اندوہناک ظلم ہے – کس طرح کے الیکٹرک نے نیشنل ایسڈ کو چوری کرکے نیلام کیا –جبکہ کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ ابراج کیپٹل مالک ہی نہیں 2009 کے معائدوں میں بطور ایک گواہ کے طور پر شامل ہے اور الجماعیہ گروپ کی رجسٹریشن بھی جعلی ہے الجماعیہ کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے وہ ایک خیالی کمپنی ہے اور ابھی جو شنگھائی کے ساتھ جو ابراج کیپٹل نے 17718 کروڑ میں معائد کیا – یہ ابراج کیپٹل نے کیسے معائدہ کیا ہے

اگر یہ پیسہ پاکستان کے خزانہ میں لا یا جائے تو پاکستان کا پورا قرضہ ختم ہو سکتا ہے –یہ شنگھائی کے ساتھ ابراج معائدہ کر ہی نہیں سکتی –یہ تو کے الیکٹرک کے مالک ہی نہیں ہے اور یہ شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کے الیکٹرک نے جو بیچنے کا معائدہ کیا ہے – یہ معائدہ نیپرا کو کیوں نہیں دے رہے ہیں اور کے الیکٹرک ابراج تو مالک ہی نہیں کے الیکٹرک پھر کس طرح معائدہ کر رہی ہے جبکہ یہ 2009 کے معائدے میں ایک گواہ پر ہیں –نیپرا جب بھی ان سے پوچھتا ہے کہ وہ معائدہ جو شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کیا ہے وہ تو لے کر آو تو یہ کے الیکٹرک والے کہتے ہیں کہ وہ معائدہ حفاطتی وجوہات کی بنا پر ڈسکوز نہیں کر سکتے –جب کہ یہ مالک ہی نہیں اور شنگھائی الیکٹرک بھی جعلی ہے اور کے الیکٹرک نے ہمارا نیشنل ایسڈ 4600 ارب روپےکاکاپر نکال کر بیچ دیا –

جس میں ڈی جی رینجرز کی گواہی موجود ہے کوئی گرفتار کرے گا ان چوروں کو پاکستان میں اور کوئی اس کے الیکٹرک کی کرپشن کو بے نقاب کرے گا ؟شنگھائی کمپنی بھی جعلی ہے اور اسکو فرضہ کمپنی بنا کر پیش کیا گیا – جس میں ہمارے بڑے بڑے لوگ شامل ہیں اور شنگھائی الیکٹرک نے جو ایڈریس دیا ہے وہ چائناموجود ہی نہیں ہے یہ ایگرئمنٹ بھی نہیں دکھا رہے ہیں اور از خود پاکستان کی پراپرٹی بیچی جا رہی ہے پاکستان کا سارا کاپر جو نیشنل ایسڈ ہے وہ چوری کرکے بیچ دیا گیا ہے آج ہم پانامہ کیس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اس کے الیکٹرک کی کرپشن کو کیوں بے نقاب نہیں کرتے –پاکستان کے سرمایہ کو لوٹا جا رہاہے اور ہم سب خاموش بیٹھے ہوئے تماشہ دیکھ رہے ہیں

یہاں ہر گھر پر ماہانہ 30،000 روپے کابل بھیجا جارہا ہے –کیا سلوک کیا جا رہا ہے پاکستانیوں کے ساتھ ؟ پاکستان کی سب بڑی کرپشن ہے کے الیکٹرک کی – پاکستان کا سارا کاپر بیچ کر اور زمین سے نکال کر بیچ دیا گیا اور پاکستان کے خزانہ میں ایک روپے بھی نہیں جمع کیا گیا –اس سے بڑی کرپشن کیا ہو سکتی ہے پانامہ کیس اس کے سامنے ایک فیصد بھی نہیں ہے جناب -4600 ارب روپے کی ایک کرپشن اور 17000 کروڑ روپے کی کرپشن جس ادارے کو انھوں نےخریدا ہی نہیں اور ادارے خرید ہی نہیں اور اس ہی کو بیچ دیا گیا چار چار جہگوں پر اس کمپنی کو بیچا جارہا ہے اور ہمیں بیچ جا رہا ہے

پورے دنیا میں جبکہ تمام کمپنی جعلی ہیں شنگھائی کے پیچھے جاو گے وہاں بھی ہمارا وزیر خزانہ اسحاق ڈار اسکے بیگ گروانڈ پر نظرآئیں گے کے الیکٹرک کی ابراج کیپٹل منیجمنٹ میں 40 فی صد انڈین شیئر ہیں انڈیا کے لوگ ہیں اور کراچی سے جو کارپر اتار گیا ہے ایک پلاننگ کے تخت اتار اگیا ہے کے الیکٹرک کے منیجمنٹ میں اگر ہم دیکھیں تو ہمیں 40 کلبھوشن نظر آئیں گے ہم ایک کلبھوشن کو لیکر بیٹھے ہوئے ہیں – کراچی کا سارا کاپر یہاں سے بیچا گیا –ہماری ایجنسی نے کے الیکٹرک کا ہنڈی حوالہ کیس 700 ارب روپے کا پکڑا تھا اور یہاں سے وہ پیسہ شفٹ کر دیا گیا جس پر ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور ابھی یہ انڈر گروانڈ اور اوور ہیڈ کاپر نکال کر اور اتار کر گوجرانوالہ کی پنکھے بنانے والے فیکٹریوں کو بیچا جا رہا ہے

اس غیر قانونی نیلامی کو سامنے لایا جائے اور پاکستان کی اس کرپشن کو بے نقاب کیا جائے اور کے الیکٹرک نے جو 15000 ارب روپے لوٹے ہیں اس کو وصول کرکے پاکستان کے قومی خزانے میں شامل کریں تو پاکستان کا قرضہ ختم ہو سکتا ہے –کراچی کے شہریوں کو 30000 روپے کا بل بھیجا جا رہا ہے اور کنڈا کنکشن کے ذریعے روزانہ کے بنتے ہیں اور یہی کنڈے کے پیسے 1000 ارب روپے سال کے بنتے ہیں اور انھوں نے پندرہ سال لوتا ہے تو یہی پیسے 15000 ارب روپے بنتے ہیں پورے پاکستان کے عوام کو پانامہ کیس کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اسل مسئلہ تو کے الیکٹرک کی کرپشن کا ہے – عوام کو اس کا کیا فائدہ ہوگا-

سید دانش جمیل
آئڈیل کراچی ویلفیئر آرگنائزیشن

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.