فون نہ اٹھا کر ہیرو بننے کا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری

KaprayWapray.com

 

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آئی جی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو جواب دہ ہیں، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ آئی جیز، ایس پیز اور بیورو کریسی عوامی نمائندوں کے فون نہ اٹھائیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ آئی جی اسلام آباد کا وفاقی وزیرکا فون اٹینڈ نہ کرنا ہے، فون نہ اٹھا کر ہیرو بننے کا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اے پی سی، این آر او کے لئے ہو رہی ہے،شریف برادران اور آصف زرداری چاہتے ہیں کہ مقدمات نہ چلائے جائیں،وہ کہہ رہے ہیں ’این آر او ‘اور ہم کہہ رہے ہیں’نہ رو‘۔

انہوں نے کہاکہ 5 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں شکایات پر پولیس والوں کے تبادلے کیےگئے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، ممکن نہیں کہ آئی جی، ڈی سی یا کوئی اور وزیراعظم اور دیگر کو جواب دہ نہ ہوں۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قابل احترام ہے وہ جوفیصلہ کرے گی وہ قبول کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آئیں، اے پی سی کی تک سمجھ نہیں آتی، یہ این آر او لینے کے لیے ہورہی ہے لیکن کچھ بھی ہوجائے ’این آر او ‘نہیں ملے گا، ہم کہہ رہے ہیں ’نہ رو ‘وہ کہہ رہے ہیں ’این آر او۔‘

شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ اگر انہیں چیئرمین بنایا گیا تو اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے؟ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس نیک پاک لوگ تو ہیں نہیں، جس پر پاتھ رکھیں اس پر نیب کے 6 کیس نکل آتے ہیں۔

بنی گالہ تجاوزات کیس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا گھر سی ڈی اے کی حدود میں نہیں آتا تھا، ان کا گھر موہڑہ نور یونین کونسل کی حدود میں آتاتھا، 30 سال قبل یہ گھر پچھلے قوانین کے تحت بنا تھا۔

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.