گستاخانہ خاکے کیسے رکوائے جاسکتے ہیں ؟

KaprayWapray.com

گستاخانہ خاکے کیسے رکوائے جاسکتے ہیں ؟ کیونکہ ہم بھی عام مسلمانوں کی طرح جزبات بن کر سوچ رہے ہیں۔ جبکہ صیہونیوں سے مقابلے کے لیے صیہونیوں جیسا دماغ استعمال کرنا پڑتا ہے ان ابلیس کی اولادوں کو کس طرح سبق سکھایا جاسکتا ہے۔

سب سے پہلے ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ صیہونیوں سے مقابلے کے لیے صیہونیوں جیسا دماغ استعمال کرنا اشد ضروری ہے، عام مسلمانوں جیسا سوچیں گے تو پھر نتیجہ صفر کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ صیہونی ہر چیز پر اتنا غور کرتے ہیں کہ جتنا ہم نے زندگی بھر نہیں کیا ہوگا۔ گیرٹ ولڈرز اگر گستاخانہ کاکے شایع کرنے کا اعلان کرتا ہے تو یہ مت سمجھیں کہ وہ صرف اکیلا ہے۔

آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اس دنیا میں فری میسن الیومیناٹی صیہونی تنظیم کا بھی وجود ہے جو نظر نہیں آتی لیکن پوری دنیا کو چلاتی ہے۔ یہی وہ فری میسن صیہونی تنظیم ہے جو گیرٹ ولڈرز کو استعمال کرکے مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتی ہے۔ تھوڑا سوچیئے کہ کیا صیہونی اتنے ویلے ہیں کہ دنیا کے تمام کام چھوڑ کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شایع کریں گے؟ ان خاکوں سے کیا انہیں اربوں ڈالرز منافع ہوگا؟ نہیں بلکہ الٹا انہیں نقصان ہوگا ۔ تو وہ نقصان جانتے ہوئے بھی ایسا اقدام کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
غور سے سنیے

صیہونیوں کا گستاخانہ کاکے شایع کروانے کا اصل مقصد یہ ہے

1۔ مسلمانوں کے ایمان کو چیک کیا جائے کہ اب ان کے دلوں میں کتنا عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچا ہے۔ جب تک یہ عشق ختم نہیں کیا جاتا صیہونی جانتے ہیں کہ وہ اسلام کو ختم نہیں کرسکتے۔

2۔ اسلام کو ختم کرنا اس لیے ضروری ہے کہ انہیں دنیا کے تمام مذاھب کو تذبذب کا شکار کرنا ہے تاکہ لوگ انسانیت سب سے برا(BIG) مذھب ہے کے نعرے تلے جمع ہوجائیں اور یوں جیسے ہی دجال کا خروج ہو تو پوری دنیا کی عوام بلا کسی چوں چراں کے دجال کے مذھب کو اپنالے۔ چونکہ اسلام تیزی سے پھیلتا دنیا کا سب سے برا مذھب ہے اس لیے اسلام کو تذبذب کا شکار کرنا سب سے اہم ہے۔

3۔ گستاخانہ خاکے شایع کرنے سے مسلمانوں کو مشتعل کروایا جائے، اور اپنے ہی تخلیق کردہ دہشت گرد گروہ جنہیں اسلام کا لباس پہناکر پھیلایا گیا ہے جیسے داعش، بوکوحرام، ٹی ٹی پی، القائدہ وغیرہ ان کے زریعے پوری دنیا میں دہشت گرد حملے کروائے جائیں اور انہیں کہا جائے کہ وہ اعلان کریں کہ انہوں نے یہ حملے گستاخانہ خاکوں کے جواب میں کیے۔

4۔ پھر صیہونی جو پوری دنیا کا میڈیا کنٹرول کرتے ہیں، اپنے میڈیا کی دوڑیں لگائیں گے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور اسلام دہشت گرد مذھب ہے۔ یہیں سے دوبارہ “انسانیت سب سے برا مذھب ہے” کا نعرہ پروموٹ کیا جائے گا، ملحدوں کی فوج ظاہر ہوگی جو مسلمانوں کو ہی دہشت گرد ثابت کرے گی، پوری دنیا کا صیہونی میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد کہے گا اور یوں مسلمانوں پر ہی کفار ہر طرف ٹوٹ پڑیں گے۔

یاد رکھیں، ابلیس کی مجلس شورہ کا پہلا قانون یہی ہے کہ جھوٹ اور دھوکے سے حکمران کرو۔ یہ جھوٹ وہی پروپیگنڈہ ہے جس کوآج کے دور میں میڈیا کے زریعے پھیلایا جاتا ہے۔ صیہونی ایک طرف سے نہیں کھیلتے بلکہ مختلف زاویے سے پہلے سے ہی میدان تیار کرکے پھر وار کرتے ہیں۔ وہ گیرٹ ولڈزر کے سر پر بھی ہاتھ رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف داعش اور القائدہ کے زریعے ہالینڈ کو دھمکیاں بھی دلوائیں گے۔
کیا آپ بھول گئے کہ جب پہلے چارلی ہیبڈو میگزین نے گستاخانہ خاکے شایع کیے تھے ان پر داعش نے حملے کیے تھے۔ داعش کس کی تنظیم ہے تو آپ پہلے ہی جانتے ہوں گے
پھر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہورہا ہے؟
مسلمانوں یہ سب تمہارے دماغ کو گھمانے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم سوچ سوچ کے چکرا جاو اور بالآخر وہی اقدام کرو جو صیہونی پہلے سے سوچ کے بیٹھے تھے۔

گیرت ولڈرز کو کیسے روکا جاسکتا ہے ؟

گیرٹ ولڈرز اکیلا نہیں، اس کے پیچھے فری میسن الیومیناٹی صیہونی تنظیم ہے۔ اگر آپ گیرٹ ولڈرز کو روکنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ اس تنظیم کو للکاریے۔ دنیا کا ہر فرعون را موسیٰ ہوتا ہے، گیرٹ ولڈرز اور فری میسن تنظیم کے لیے اس دنیا میں بہت سے را موسیٰ موجود ہیں بس ایک اشارہ کی ضرورت ہے سب مل کر ٹوٹ پڑیں گے۔

فری میسن الیومیناٹی تنظیم اور صیہونیوں کو جس چیز سے سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے وہ ہے ہولوکاسٹ اور ہٹلر۔ ہولوکاسٹ دراصل صیہونیوں کی نسل کشی کو کہتے ہیں جو ہٹلر نے کی تھی۔ ہٹلر اس دنیا کا ایک عظیم ترین دماغ تھا جس نے صیہونیوں کو سب سے بہترین سمجھا اور ان صیہونیوں کو پکڑ پکڑ کر کتے کی موت مارا۔ لاکھوں کی تعداد میں صیہونیوں کو پکڑ کر ہٹلر نے جہنم واصل کیا جبکہ صیہونی ہٹلر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ ہٹلر نے کچھ صیہونی چھوڑ دیے اور کہا کہ میں انہیں اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ دنیا جان لے کہ ہٹلر نے صیہونیوں کو کیوں قتل کیا تھا۔

ہٹلر کے ہاتھوں صیہونیوں کے اس قتل عام کو “ہولوکاسٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یورپ جہاں صیہونیوں کا مکمل کنٹرول ہے، وہاں ہولوکاسٹ کا نام لینا بھی جرم ہے، ہولوکاسٹ پر کوئی ٹی وی چینل بات نہیں کرسکتا، کوئی ٹاک شو نہیں کرسکتا، عوام ہولوکاسٹ کا لفظ زبان پر نہیں لاسکتے کیونکہ یہ جرم ہے۔ اور جرم ثابت ہونے پر کئی یورپی ممالک میں سزا موت کا قانون ہے۔ یہ سزا موت کا قانون کیوں بنایا گیا کیونکہ ہولوکاسٹ صیہونی سانپ کو وہ حصہ ہے جہاں پر مارنے سے صیہونیوں کو سب سے زیادہ درد ہوتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو اگر صیہونیوں سے مقابلا کرنے ہے تو ہمیں ہولوکاسٹ کو ہر جگہ پھیلانا ہوگا۔

گیرٹ ولڈرز نے گستاخانہ خاکوں کا اعلان کیا ہے تو مسلمان مل کر “ہولوکاسٹ انٹرنیشل کارٹون کنٹیسٹ” کی نمائش کا اعلان کریں۔ اس نمائش میں پوری دنیا سے مسلمان کارٹونسٹس کو درخواست کریں کہ وہ ہٹلر کی تعریف اور ہولوکاسٹ پر بہترین کارٹون بناکے بھیجیں اور ان سب کو پوری دنیا میں لائیو فیس بک ٹویٹر پیجز کے زریعے دکھائیے۔ پھر دیکھیں صیہونیوں کی خفیہ تنظیم فری میسن الیومیناٹی کے کیسے ہاتھ پاؤں ہلتے ہیں۔ وہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر ہولوکاسٹ کے نام پر اپنی یہ بےعزتی کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ وہ خود ہی گیرٹ ولڈرز کو گستاخانہ خاکوں کی نمائش سے روک دیں گے۔

اس کے علاوہ مسلم امہ کا متحد ہونا انتہائی ضروری ہے، جب تک امت مسلمہ متحد نہیں ہوتی کوئی بھی اقدام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سعودی عرب کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے اس لیے سعودی بادشاہ کبھی امریکہ یا صیہونیوں کو نہیں للکارتے۔ انہوں نے ابھی تک ہالینڈ کے اس صیہونی گیرٹ ولڈزر کو بھی نہیں للکارا۔ ایران بھی مسلم ملک ہے لیکن اس نے بھی سرکاری سطح پر کچھ نہیں کیا۔ انفرادی طور پر ہر کوئی بس ٹویٹ کرکے سمجھ رہا ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی لیکن صیہونیوں کے لیے آپ کے انفرادی ٹویٹس کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے اگر کوئی اعلان خطرناک ہوسکتا ہے تو وہ امت مسلمہ کا اجتماعی اعلان ہے۔

او آئی سی ایک عالمی مسلم اتحاد ہے جو کئی سالوں سے موجود ہے لیکن اس پلیٹ فارم نے آج تک کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دیے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اتحاد سعودی عرب کے زیر نگرانی ہے اور سعودی عرب امریکہ کے حکم کے بغیر ہل بھی نہیں سکتا۔ دوسری بات عالمی فوجی اتحاد بنانے والا بھی یہی سعودی عرب ہے لیکن اس اتحاد نے بھی مسلم ملک یمن پر حملوں کے سوا کفار کے خلاف ایک بھی قدم نہیں اٹھایا۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس اتحاد کو بھی سعودی عرب چلاتا ہے اور سعودیہ نے آج تک کبھی بھی امریکہ یا صیہونیوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اٹھائے بھی کیسے کہ آل سعود کو بادشاہی بھی تو انہیں صیہونیوں نے عطا کی تھی۔

خیر لولی لنگڑی تنظیم او آئی اسی اگر دوبارہ متحد ہوکر ایک اعلامیہ جاری کردے کہ اگر ہالینڈ نے گیرٹ ولڈرز کو نہ روکا تو پھر پوری دنیا کے مسلمان ممالک ہالینڈ سے تمام تعلقات توڑ دیں گے اور ہالینڈ کی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کردیں گے تو یقین کریں یہ اعلان ہالینڈ کو ہلا کے رکھ دے گا اور وہ گستاخانہ خاکے فورا رکوادیں گے ۔

اس کے علاہ ہر طاقتور مسلمان ملک بھی سرکاری سطح پر ہالینڈ کے خلاف بیان دے، ہالینڈ پر پریشر کو مزید تیز کیا جائے اورہالینڈ کو مسلسل دھمکیاں دی جائیں کہ ہم تم سے تمام تعلقات توڑ دیں گے اس لیے باز آجاو۔ اس طرح ہالینڈ خاکے رکوانے پر مجبور ہوجائے گا۔ طاقتور مسلمان ممالک میں پاکستان سب سے پہلے آتا ہے پھر ترکی اور پھر سعودی عرب اور ایران جبکہ باقی ممالک محض نام کے مسلمان ہیں۔

پاکستان سب سے طاقتور مسلم ملک اور واحد ایٹمی قوت ہے۔ ہم نے اس بم کا نام بھی اسلامی بم رکھا تھا مگر افسوس ہماری عوام نے کبھی غیرتمند حکمرانوں کو ووٹ نہیں دیا۔ ہمیشہ آستین کے سانپوں کو ووٹ دیکر پھر روتے رہے کہ ملک کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے۔ صیہونیوں کے ایجنٹوں کو بار بار ووٹ دیکر حکمران بناکے پھر روتے ہیں کہ پاکستان صیہونیوں کے خلاف کیوں نہیں بولتا۔ اپنے پاؤں پر کلہاڑے مار کر پھر کہتے ہیں کہ ہم پر ظلم کیوں ہورہا ہے۔

خدا خدا کرکے پاکستان میں اس مرتبہ تبدیلی کی لہر دوڑی اور روایتی نواز زرداری کے بجائے عمران خان سامنے آیا۔
اب عمران ملک کا سربراہ ہے تو اب رگڑا بھی اسی کو لگے گا۔

پاکستانیوں اب ہم سب کو مل کر عمران کان سے ایک ہی مطالبہ کرنا ہوگا کہ
مدینے جیسی ریاست قائم کرنے کے اعلان کرتے ہو لیکن میدنے والے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ کاکے شایع کرنے والے صیہونی گیرٹ ولڈرز کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتے۔
اگر مصلحت ہے تو پھر خان صاب تیار ہوجاؤ کیونکہ جب بات ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہو تو مسلمان کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے۔ یہ اقتدار آنی جانی چیز ہے، اس لیے فورا صیہونی گیرٹ ولڈرز کے خلاف بیان دو۔ ہالینڈ کو کھل کر دھمکی دو کہ گستاخانہ خاکے نہ رکے تو پھر تم سے تمام تعلقات ختم کرکے تمہاری تمام مصنوعات کا بھی سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔

پاکستانیوں یقین کرو ! پاکستان کے وزیراعظم کا ایک بیان ہی پورے ہالینڈ کو ہلا کے رکھ سکتا ہے، مگر دیکھنا ہے عمران غیرت کرتا ہے یا محض چند نوٹوں کی خاطر تجارت کی خاطر مصلحت کا شکار ہوتا ہے۔

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.