اُطاق اقبال‘ جی سی یونیورسٹی

بلاگ
119
0
sample-ad

اُطاق اقبال‘ جی سی یونیورسٹی جو کبھی’ گورنمنٹ کالج لاہور ‘ہوا کرتا تھا کا’اقبال ہاسٹل ‘، جو کبھی کالج کا’ بورڈنگ ہاؤس‘ ہوا کرتا تھا کا وہ چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں شاعر مشرق علا مہ اقبالؔ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں پانچ سال1895تا1900ء تک قیام کیا۔

انسان کی زندگی میں کبھی کبھار کچھ ساعتیں ایسی آتی ہیں کہ وہ اس کی زندگی کے یاد گار لمحات بن کر اس کی بقیہ زندگی میں اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ میرے لیے ایسے ہی وہ لمحات تھے جب میں 27مارچ2018ء کو منہاج یونیورسٹی کے ساتھیوں ڈاکٹر اقبال حسین اسد، شاہد محمود مہراور بشیر بھٹی کے ہمراہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے دورہ پر گیا۔ مطالعہ کی ابتدا لائبریری کے مطالعہ سے ہوئی پھر اقبال ہاسٹل پہنچے اور اس کمرے میں گئے جس میں شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے زمانہ طالب علمی میں پانچ سال قیام کیا تھا۔ اقبال کا یہ کمرہ 2016ء تک مخفی تھا، احبابِ علم و دانش اس بات کی خواہش ضرورکیا کرتے تھے کہ اس ہاسٹل میں کوئی کمرہ اقبال کا بھی ہے جس میں انہوں نے پانچ سال قیام کیا لیکن کوئی بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کمرہ کون سا ہے۔ 120سال گزر گئے ،لاہور کالج نے جی سی یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر لیا ۔

کالج کا بورڈنگ ’’اقبال ہاسٹل ‘بن گیا لیکن اقبال کے اس کمرے کا تعین نہ ہوسکا۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جناب جسٹس جاوید اقبال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی خواہش تھی کہ اس کمرے کو دھونڈ نکا لا جائے، انہوں نے کچھ کوشش بھی کی لیکن اس دور میں یہ ممکن نہ ہوسکا ۔ باوجود ا س کے کہ یہ کمرہ جسے ’اُطاقِ اقبال‘ کا نام دیا گیا لاہور میں علامہ اقبال اولین رہائش گاہ رہا۔ کمرے کا تعین ایک مشکل اور تحقیق طلب کام تھا۔ ٹھوس شواہد، مستند شہادت اور دستاویزی ثبوت کے بغیر کمرے کی نشاندھی مشکل امر تھا۔ جی سی یونیورسٹی کے موجودہ شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کی کاوشوں سے یہ ممکن ہوسکا۔ 120سال گزر چکے تھے اور اقبال کے اس کمرے کا تعین نہ ہوسکا تھا۔اس اہم اور تاریخی فریضہ کی انجام دیہی نیز تحقیق و جستجو کے لیے شیخ الجامعہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی، پروفیسرڈاکٹر خورشید رضوی اور اس وقت کے ہاسٹل کے انچارچ ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی شامل تھے۔کمیٹی کا بنیادی کام تحقیق وشواہد کی روشنی میں اقبال کے اس کمرے کا تعین کرنا تھا جس میں اقبال پانچ سال مقیم رہے ۔ اس کمیٹی نے تاریخی دستاویزات ، اقبال کی تحریروں، تاریخی کتابوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کے مطابق سید غلام بھیک نیرنگ نے اپنی تصنیف ’’اقبال کے بعض حالات ‘‘ میں ہاسٹل کے حالات اور علامہ اقبال کے کمرے کے محل وقوع کا ذکر انتہائی عمدہ اور تفصیل سے کیا ہے ۔غلام بھیک نیرنگ علامہ اقبال کے ہاسٹل کے کمرے کے جو اشارے دیے ان کے مطابق بورڈنگ ہاوس میں مشرقی و مغربی قطار کے جنوبی سرے پر وہ کمرہ بتایا گیا ۔ تحقیقی کمیٹی نے جب ان اشاروں کی روشنی میں تحقیق کی تو اس جانب صرف ایک ہی کمرہ موجود پایا۔ جس کا تعین اقبال کی اُطاق کے طور پر کر لیا گیا۔

کمرے کا باقاعدہ افتتاح جنوری2016ء میں علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر خورشید رضوی اور شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ بھی موجود تھے۔ سید غلام بھیک نیرنگ کو میر نیرنگ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے زمانے کے معروف وکیل ، شاعر اور قیام پاکستان سے پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدیدار تھے۔ وہ علامہ اقبال کے قریبی دوست اور کالج فیلو بھی تھے۔ ان کے مجموعہ کلام، ’’کلام نیرنگ‘‘ اور غبار افق ‘‘ شائع ہوئے۔ اقبال سے دوستی اور محبت میں انہوں نے جو کتاب لکھی وہی’’ اُطاق اقبال ‘‘ کو دنیا کے سامنے لانے کا سبب بنی۔ انہوں نے علامہ اقبال کے ساتھ لاہور کے قدیم مشاعروں میں شرکت بھی کی۔ وہ سرسید اور حالی سے متاثر تھے۔

کمرے کے افتتاح کے موقع پر علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے کہا تھا کہ’ یہ کمرہ علامہ اقبال کی لاہور میں پہلی رہائش گاہ تھی اور اس کی دریافت ان کے والد کی بھی خواہش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم قومی فریضہ تھا جو اس بورڈنگ ہاوس کی 125سالہ تقریبات کے موڑ پر مکمل ہوا‘۔ پروفیسر خورشید رضوی نے اس موقع پر کہا تھا کہ’ قدرت بعض اوقات کچھ چیزوں کو اچھے وقت کے لیے پوشیدہ رکھتی ہے اس بورڈنگ ہاوس کی 125سالہ تقریبات پر غلام بھیک نیرنگ کے مضمون سے علامہ اقبال کے کمرے کا دریافت ہونا بھی ایسا ہی عمل ہے‘۔

اقبال کے کمرے کا تعین ہوگیا تو شیخ الجامعہ نے اس کمرہ کو اقبال کی یاد گار کے طور پر بند کر کے رکھنے کے بجائے اس کمرہ کو طالب علمو ں کو رہائش کے لیے دینے کا اعلان کیا لیکن اس کی شرط یہ رکھی کہ وہ تمام طالب علم جو اقبال ہاسٹل میں رہاش رکھتے ہوں گے ان میں سے پوزیشن ہولڈر طالب علم کو یہ کمرہ ایک سال کے لیے الاٹ کیا جائے گا۔ ایسا ہی ہوا 2016ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس کے پہلے رہائشی کا تو نام معلوم نہ ہو سکا البتہ اس کمرے کا دوسرا رہائشی اویس عالم تھا جس کا تعلق بکھر سے بتا یا جاتا ہے۔ اس کمرے کا موجودہ مقیم حسب احمد ہے۔حسیب احمد کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق قصور سے ہے ، انٹر میڈیٹ سال اول میں اس کی پہلی پوزیشن تھی جس کے باعث اسے یہ سعادت ملی کہ وہ علامہ اقبال کے کمرہے کا مقیم بنا۔ وہ اس کمرہ میں 26 اکتوبر 2017 ء میںآیا تھا اور اسے 4مئی2018ء تک وہ یہاں رہائش پذیر رہے گا۔ اس کے بعد کسی اور ہونہار طالب علم کو یہ سعادت ملے گی ۔ حسیب اور دیگر طالب علم جنہوں نے اس کمرہ میں ہاسٹل لائف گزاری یقیناًخوش نصیب ہیں اور اس کمرے میں گزارے ہوئے دن ان کی زندگی کے یاد گار دن رہیں ہوں گے۔ حسیب ایک ذہین طالب علم ہے، وہ پری انجینئر نگ سال دوم کا طالب علم ہے ، حسیب نے بتا یا کہ یہ کمرہ اپنی اصل حالت میں کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کی چھت اس زمانے کی جس میں ریل کی پٹری نما گارڈر لگا ہوا ہے، اس کی لکڑی کی کھڑکی اور دروازہ اسی زمانے کا ہے۔ کمرے میں کپڑے ٹانگنے کی جو کھونٹی لگی ہوئی ہے وہ اقبال کے دور کی ہی ہے۔ کمرے میں علامہ اقبال کی زمانہ طالب علمی میں لکھی گئیں نظموں کی فہرست ، غلام بھیک نیرنگ کا مضمون اور اقبال کی نظموں کے مسوادات آویزاں ہیں۔مجھے اس کمرہ میں چند لمحات گزارنے اور حسیب احمد سے ملاقات کرنے اور اس کمرے کے بارے میں کچھ حقائق معلوم کرنے کا موقع ملا۔ کمرے میں ہم نے کچھ تصاویر بھی بنوائیں ۔

جی سی یونیورسٹی لاہور جو گورنمنٹ کالج لاہور تھا اپنے اندر ایک قدیم اور روشن تاریخ لیے ہوئے ہے۔ اس یونیورسٹی نے بڑے بڑے نام پیدا کیے۔ علامہ اقبال کے علاوہ فیض احمد فیضؔ ، ن م راشد، صوفی غلام مصطفی تبسم، مستنصر حسین تارڑ، اشفاق احمد، پطرس بخاری، قدرت اللہ شہاب، جاوید احمد غامدی، افضل رضوی اور دیگر شامل ہیں۔ سیاست دانوں میں میاں نوازز شریف ، میر ظفر اللہ جمالی، یوسف رضا گیلانی، ڈاکٹر معین قریشی، محمد ظفر اللہ خان، اعتزاز احسن، خورشید قصوری، معروف فوجیوں میں جنرل حمید گل، جنرل راحیل شریف، میجر شبیر شہید شامل ہیں۔ سائنسدانوں میں اشفاق احمد ،منیر احمد خان، ثمر مبارک مند، نوبل انعام یافتگان میں ڈاکٹر ہرگوبند کھرانہ اور ڈاکٹر عبد السلام ، ڈاکٹر لائٹز، پروفیسر گیرٹ، امتیاز علی تاج، جی ڈی سوندھی، ڈاکٹر وحید قریشی کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ صحافیوں میں حامد میر، نجم سیٹھی، عدلیہ سے تعلق رکھنے والے جناب جسٹس جاوید اقبال، جناب جسٹس ایم آر کیانی، جناب جسٹس نسیم حسن شاہ، جناب جسٹس میاں ثاقب نثار اور جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ شامل ہیں۔اسی طرح شوبیز سے تعلق رکھنے والوں میں دیو آنند، علی ظفر اور حدیقہ کیانی اس جامعہ کے طالب علم رہے۔ ہاسٹل ‘‘ بن گیا لیکن اس کمرے کا تعین نہ ہوسکا۔

اس کمرہ کے باہر دروازے کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی تختی نصب ہے جس پر تحریر ہے ’’اُطاقِ اقبال‘‘۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ حقیقت تھی میں اپنے ساتھیوں کے ہمرہ کمرہ میں موجود تھا۔ کمرہ کی لمبائی چوڑائی مشکل سے 12×10 فٹ ہوگی۔ صاف ستھرا، لوہے کا ایک چھوٹا سا بیڈ جس پر معمولی سی چادر، ایک میز ، ایک کرسی، دیوارپر چند تصاویر جن میں سے ایک تصویر علامہ اقبال کی وہ ہے جس میں وہ بیڈ پر اس طرح لیٹے ہوئے ہیں کہ ان کا سیدھا ہاتھ ان کی گردن اور سر کے نیچے ، گویا آدھے لیٹے اور آدھے بیٹھے ہوئے ، بڑی نالی والا حقہ جس کی نالی ان کے منہ تک پہنچ رہی ہے۔ اسی طرح چند دیگر تصاویر بھی جن کا ذکر اوپر کیاگیا دیواروں پر آویزاں ہیں۔اقبال کے کمرے کا تعین ہوگیا تو شیخ الجامعہ نے اس کمرہ کو اقبال کی یاد گار کے طور پر بند کر کے رکھنے کے بجائے اس کمرہ کو طالب علمو ں کو رہائش کے لیے دینے کا اعلان کیا لیکن اس کی شرط یہ رکھی کہ وہ تمام طالب علم جو اقبال ہاسٹل میں رہاش رکھتے ہوں گے ان میں سے پوزیشن ہولڈر طالب علم کو یہ کمرہ ایک سال کے لیے الاٹ کیا جائے گا۔ ایسا ہی ہوا 2016ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس کے پہلے رہائشی کا تو نام معلوم نہ ہو سکا البتہ اس کمرے کا دوسرا رہائشی اویس عالم تھا جس کا تعلق بکھر سے بتا یا جاتا ہے۔ اس کمرے کا موجودہ مقیم حسب احمد ہے۔حسیب احمد نے بتایا کہ اس کا تعلق قصور سے ہے ، انٹر میڈیٹ سال اول میں اس کی پہلی پوزیشن تھی جس کے باعث اسے یہ سعادت ملی کہ وہ علامہ اقبال کے کمرہے کا مقیم بنا۔ اس کمرے میں ہم نے کچھ تصاویر بنوائیں ۔ حسیب کا کہناہے کہ وہ اس کمرہ میں 26 اکتوبر 2017 ء میںآیا تھا اور اسے 24مئی2018ء تک وہ یہاں رہائش پذیر رہے گا۔

اس کے بعد کسی اور ہونہار طالب علم کو یہ سعادت ملے گی ۔ حسیب اور دیگر طالب علم جنہوں نے اس کمرہ میں ہاسٹل لائف گزاری یقیناًخوش نصیب ہیں اور اس کمرے میں گزارے ہوئے دن ان کی زندگی کے یاد گار دن رہیں ہوں گے۔ حسیب ایک ذہین طالب علم ہے، وہ پری انجینئر نگ سال دوم ہے ، آئندہ NUSTمیں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ حسب نے بتا یا کہ یہ کمرہ اپنی اصل حالت میں کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کی چھت اس زمانے کی جس میں ریل کی پٹری نما گارڈر لگا ہوا ہے، اس کی لکڑی کی کھڑی اور دروازہ اسی زمانے کا ہے۔ حسب کا کہنا ہے کہ کمرے میں کپڑے ٹانگنے کی جو کھونٹی لگی ہوئی ہے وہ اقبال کے دور کی ہی ہے۔ کمرے میں علامہ اقبال کی زمانہ طالب علمی میں لکھی گئیں نظموں کی فہرست ، غلام بھیک نیرنگ کا مضمون اور اقبال کی نظموں کے مسوادات آویزاں ہیں۔

جی سی یونیورسٹی لاہور اپنے اندر ایک قدیم اور روشن تاریخ لیے ہوئے ہے۔ اس یونیورسٹی نے بڑے بڑے نام پیدا کیے۔ علامہ اقبال کے علاوہ فیض احمد فیضؔ ، ن م راشد، صوفی غلام مصطفی تبسم، مستنصر حسین تارڑ، اشفاق احمد، پطرس بخاری، قدرت اللہ شہاب، جاوید احمد غامدی، افضل رضوی اور دیگر شامل ہیں۔ سیاست دانوں میں میاں نوازز شریف ، میر ظفر اللہ جمالی، یوسف رضا گیلانی، ڈاکٹر معین قریشی، محمد ظفر اللہ خان، اعتزاز احسن، خورشید قصوری، معروف فوجیوں میں جنرل حمید گل، جنرل راحیل شریف، میجر شبیر شہید شامل ہیں۔ سائنسدانوں میں اشفاق احمد ،منیر احمد خان، ثمر مبارک مند، نوبل انعام یافتگان میں ڈاکٹر ہرگوبند کھرانہ اور ڈاکٹر عبد السلام ، ڈاکٹر لائٹز، پروفیسر گیرٹ، امتیاز علی تاج، جی ڈی سوندھی، ڈاکٹر وحید قریشی کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ صحافیوں میں حامد میر، نجم سیٹھی، عدلیہ سے تعلق رکھنے والے جناب جسٹس جاوید اقبال، جناب جسٹس ایم آر کیانی، جناب جسٹس نسیم حسن شاہ، جناب جسٹس میاں ثاقب نثار اور جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ شامل ہیں۔اسی طرح شوبیز سے تعلق رکھنے والوں میں دیو آنند، علی ظفر اور حدیقہ کیانی اس جامعہ کے طالب علم رہے۔

یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ علامہ اقبال جی سی یونیورسٹی جو اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور تھا میں طالب علم بھی رہے اور انہوں نے اسی کالج میں پڑھایا بھی اور یہاں استاد بھی رہے۔ یہ بات میرے دوست اور جی سی یونیورسٹی کے سابق طالب علم ، جناب افضل رضوی نے بتائی۔افضل رضوی صاحب کا موضوع تونباتات ہے لیکن اقبالیات ان کے مطالعہ اور زندگی میں اہم حصہ ہے ۔ کئی سال سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ پاکستان تشریف لائے ۔ انہوں نے اقبال پر ایک کتاب مرتب کی جس کا عنوان ہے ’’دَر بَرگِ لالہ و گل‘‘۔ نباتاتی موضوعات پر مشتمل اقبال کا شعری کلام اور اس کی تشریح کتاب کے حسن کو اعلیٰ کرتا ہے۔ راقم نے کتاب پر اپنے خیالات کے اظہار کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ افضل رضوی نے اپنے ایک پیغام میں لکھا’’محترم صمدانی صاحب ! میرے مادر علمی میں خوش آمدید ۔ کالج کے اس کمرے میں بھی جائیے گا جس میں حکیم الامت نے طالب علم اور بعد ازاں بحیثیت معلم کچھ وقت گزارا۔ چلتے چلتے فیض احمد فیضؔ کو بھی یاد کر لیجئے گا کہ گورنمنٹ کالج میں فیض سوسائٹی قائم کرنے والوں میں احقر لاعباد کا نام بھی شامل ہے۔ شعبہ فارسی میں جائیں تو بابا یزدانی کو بھی یاد کیجئے گا کہ فارسی دانی اور کلام اقبال فارسی کی تفہیم میں ان کا بڑا ہاتھ ہے‘‘۔

جی سی یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ذخیرہ کتب تو قدیم و جدید موجود ہے ہی جنہیں لائبریری کے جدید طریقے کے مطابق ترتیب سے رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ لائبریری میں متعدد چیزیں تاریخی نوعیت کی بھی محفوظ ہیں۔ معروف شاعروں اور ادیبوں کے ذاتی ذخیرہ کتب ان کے نام سے محفوظ ہیں جیسے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی ذاتی لائبریری اور ان کی زندگی کے آخری ایام کی تصاویر لائبریری کا قیمتی سرمایا ہیں ۔ قرآن پاک کے قدیم نسخے، علامہ اقبال کا پی ایچ ڈی کے تھیسس کی فوٹو کاپی، ڈاکٹر عبد السلام کو ملنے والا نوبل پرائز، منٹو کا ٹائپ رائیٹر جو ساقی فاروقی نے منٹو سے خرید لیا تھا، مشاہیر کے خطوط، معروف مصنفین کے ہاتھ سے تحریر شدہ قلمی نسخے اور دیگر اشیاء لائبریری میں محفوظ ہیں۔ جی سی کالج اور اب یونیورسٹی کے طالب علم راوین کہلاتے ہیں ۔ یونیورسٹی کا مجلہ ’’راوی ‘‘ کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اس مجلہ کے مدیران میں معروف شخصیات اپنا علمی و ادبی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ معروف شخصیات جو مدیران رہے ان میں پطرس بخاری ، ن م راشد، ضیاء جالندھری، حنیف رامے، محمود شام، اطہر وقار عظیم، سراج منیر ، پروفیسر صابر لودھی اور دیگر احباب شامل ہیں ۔ مجھے پروفیسر صابر لودھی سے دوستی کا اعزاز حاصل ہے۔ میں نے پہلے ان کی شریک حیات فرخندہ لودھی اور پھر صابر لودھی کا خاکہ بھی لکھا۔ دونوں میاں بیوی قلم و قرطاس سے وابستہ رہے۔ فرخندہ لودھی ناول ، کہانی اور افسانے لکھنے کی ماہر اور صابر لودھی بلا کے خاکہ نگارتھے۔ جی سی یونیورسٹی میں جتنے دیر رہا صابر لودھی میرے خیالوں میں گھومتے رہے۔ ان سے کئی بار بلکہ جب بھی لاہور جایا کرتا ان سے ملاقات ضرور ہوتی۔ ان کے گھر جانے کا بھی کئی بار اتفاق ہوا۔ ایک ملاقات میں مرحوم کہنے لگے کہ جناب ہم نے آپ کی کتابوں کوجو فرخندہ کو آپ نے بھیجی تھیں بہت احتیاط سے رکھا

پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانییہ تحریر جناب پروفیسرڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی لکھی ہوئی ہے.

Facebook Comments

POST A COMMENT.