ڈاکٹر محمود حسین کی علمی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی

بلاگ
90
0
sample-ad

سابق صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کے چھوٹے بھائی، ماہر تعلیم، سابق وزیر تعلیم، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا
انتقال10اپریل 1975کو ہوا.

پروفیسر ڈاکٹر محمود حسین مرحوم پاکستان کی تاریخ کا ایک معتبرو محترم نام،ماہر تعلیم، مورخ، مبلغ، محقق، استاد، تاریخ ، منتظم، سیاست داں اور جامعہ کراچی کے چوتھے وایس چانسلرجن کی وفات کو 42برس ہوچکے ۔ انتہائی شریف النفس ، نرم اور میٹھا لب ولہجہ، شخصیت میں وقار، دراز قد، گورا رنگ، شیروانی اور پائے جامہ ان کا لباس تھا۔ مَیں اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کرتا ہوں کے میں نے ڈاکٹر محمود حسین کو قریب سے دیکھا، وہ میرے اس اعتبار سے استاد بھی ہوئے کہ میں جامعہ کراچی کا طالب علم تھا اور وہ وائس چانسلر۔

زمانہ تھا 1971کا، ہم نے بی اے کرنے کے بعد ہم معاشیات میں ماسٹرز کرنے کی امنگ لیے جامعہ کراچی پہنچے، اس زمانے میں بنک کی نوکری میں چارم تھا، جیسے آجکل آئی ٹی کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ اُس زمانے میں بنک میں نوکری میں کشش تھی۔ بات مختصر کرتا ہوں کہ شعبہ معاشیات میں تو داخلہ نہ مل سکا یا نہیں لیا، اس کے بجائے ہم لائبریری سائنس کے شعبہ میں داخل ہوگیا۔ یہ شعبہ اس وقت جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری جو بعد میں اور اب بھی ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کے نام سے جانی جاتی ہے کی پانچویں منزل پر تھا۔ اس وقت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم تھے۔ یہ بات تھی 1971کے ابتدائی دنوں کی۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم اپنے وقت کے معروف علمی شخصیت تھے۔ تاریخ ان کا مضمون تھا۔ کیمرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا تھا۔ سینٹ اسٹیفن کالج میں استاد بھی رہ چکے تھے۔ دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رہے، وہ دہلی یونیورسٹی میں ڈین اور قائم مقام وائس چانسلر بھی رہے۔

ڈاکٹر صاحب پانچ سال مرکزی حکومت میں وزارت تعلیم، وزارت اطلاعات اور وزارت بحالیات بھی رہے۔ تاریخ پر ڈاکٹر صاحب کی نظر بہت گہری تھی ، کئی تصانیف تخلیق کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے پروفیسر بی اے ہاشمی کے بعد یہ منصب 23 جون 1961کو سنبھالا تھا اور دس سال اس منصب پر فائز رہے۔ ابھی ہم ایم اے سال اول ہی میں تھے کہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی شیخ الجامعہ کی حیثیت سے 2 اگست 1971کو ریٹائر ہوگئے اور ان کی جگہ 3اگست 1971کوپروفیسر ڈاکٹر محمود حسین نے شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز ہوئے اس سے قبل ڈاکٹر صاحب تاریخ کے پروفیسر اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہماری خوش بختی کہ ایک تاریخ داں کے بعد دوسرے تاریخ داں کے زیر سایہ ہم نے پہلی ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جب دوسرا ایم اے سیاسیات میں 1985میں کیا۔ شعبہ لائبریری سائنس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبد المعید مرحوم تھے جن کے تعلقات ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور ڈاکٹر محمود حسین سے بہت قربت کے تھے۔ چنانچہ ہمارے شعبہ میں ایک تقریب کا اہتمام ہوا جو ریٹائر ہونے والے شیخ الجامعہ کا الوداعیہ اور نئے آنے والے شیخ الجامعہ کے لیے ویلکم تقریب تھی۔ اس الوداعی اور ویلکم تقریب کی اہمیت ، وقعت کا احساس آج ہوتا ہے کہ جس تقریب میں اعلیٰ علمی شخصیت موجود تھیں ان کے درمیان ہماری موجودگی ، ایک اعزاز و افتخار سے کم نہیں۔

ڈاکٹر محمود حسین5جولائی 1907میں برطانوی ہندوستان کے صوبے یوپی(اتر پردیس) کے شہر قائم گنج میں پیدا ہوئے۔ان کا خاندان آفریدی پشتون ہے جس کا تعلق پاکستان کے موجودہ خیبر پختونخواہ سے جا ملتا ہے۔ان کے جدِ امجد حسین خان نے 1715 ء میں کوہاٹ سے قائم گنج ہجرت کی تھی۔ ان کے والد کا نام فدا حسین خان اور والدہ ماجدہ نازنین بیگم تھیں۔ بھارت ( ہندوستان )کے تیسرے صدر ڈاکٹر زاکر حسین ان کے بڑئے بھائی تھے۔ ان کے ایک بھائی ڈاکٹر یوسف حسین تھے جنہوں نے علمی و ادبی موضوعات پر 12 کتب تصنیف کیں ، ان میں سے ایک دیوانِ غالبؔ کاانگریزی ترجمہ بھی ہے ۔ پاکستان کی ادبی و سماجی دنیا کی معروف خاتون ثاقبہ رحیم الدین ڈاکٹر محمود حسین مرحوم کی صاحبزادی ہیں اور جنرل(ر) رحیم الدین خان ڈاکٹر صاحب کے داماد تھے۔بیگم ثاقبہ رحیم الدین ادبی ذوق کی مالک اور ایک درد مند دل رکھتی ہیں۔ بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے انہوں نے ’پاکستان چلڈرن اکیڈمی ‘ قائم کی اور بچوں کے لیے بہت کام کیا، اسی طرح علم و ادب کے فروغ و ترقی کے لیے بھی انہوں نے ایک ادارہ ’قلم قبیلہ ‘ کے نام سے قائم کیا۔یہ ایک ادبی تنظیم ہے ملک میں علم و ادب کے فروغ کے لیے متعدد کام انجام دیے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد29اکتوبر 1920 میں ا نگریز دور حکومت میں تحریک آزادی کے مجاہد مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ میں رکھی تھی پانچ سال بعد 1925میںیہ ادارہ علی گڑھ سے نئی دہلی منتقل ہوگیا۔ ، ڈاکٹر زاکر حسین اس جامعہ کے اولین وائس چانسلر تھے۔ ڈاکٹر محمود حسین نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول ، اٹاوا اور علی گڑھ گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ (جو بعد میں دہلی منتقل ہوا) کے اولین سیشن کے طالب علموں سے تھے۔ ڈاکٹر محمود حسین نے 1932 میں جرمنی کی ہاہیڈل برگ یونیورسٹی (University of Heidelberg)سے سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پاکستان میں سوشل سائنسیز کو باقاعدہ ایک فیکلٹی اور موضوع کی حیثیت دینے کے داعی تصور کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمود حسین اور ان کا خاندان علم و ہنر کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں بھی نیک نام نظر آتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر زاکرحسین ہندوستان کے صدر رہے ۔ ڈاکٹر محمود حسین نے بھی پاکستان ہجرت کے بعد سیاست کے میدان میں قدم رکھا وہ پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ کے رکن کی حیثیت سے1949میں پاکستان کی منتخب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انہیں وزارت دفاع، امور خارجہ اور کامن ویلتھ کے امور کی وزارت سونپی گئی، یہ دور لیاقت علی خان کی وزارت عظمیٰ کا دور تھا۔ 1950-51 میں وہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور صوبہ پختونخواہ رہے، یہ زمانہ بھی لیاقت علی خان کی وزارت عظمیٰ کا تھا۔ 1952-53 میں وہ وزیر برائے امورِ کشمیر کے فرائض انجام دیتے رہے، یہ دور خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمیٰ کا تھا۔ 1953میں گورنر جنرل غلام محمد نے لاہور میں مارشل لا ء لگایا اور خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو ختم کردیا ۔ اس عمل کے نتیجے میں ڈاکٹر محمود حسین نے بھانپ لیا کہ اب پاکستان میں سیاست کی بساط کسی اور رخ پر چلنے والی ہے چنانچہ انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

جامعہ کراچی معرض وجود میں آچکی تھی ، پروفیسر ابوبکر حلیم (اے بی حلیم) جامعہ کراچی کے اولین وائس چانسلر تھے ڈاکٹر محمود حسین 1953میں تاریخ اور بین القوامی تعلقات کے اولین پروفیسر کی حیثیت سے منسلک ہوگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیرون ملک اہم جامعات میں بھی درس و تدریس کا سلسلہ قائم رکھا، ابتدامیں وہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی (1963-64) میں وزیٹنگ پروفیسر رہے، اس کے بعد کولمبیاء یونیورسٹی(1964-65) میں پروفیسر رہے اور پینسلوینیایونیورسٹی (1965-66)میں پروفیسر رہے۔ 1960سے1963انہیں ڈھاکہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا گیا۔ 1966ڈاکٹر صاحب واپس کراچی آگئے اور جامعہ کراچی میں تاریخ کے پروفیسر اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس کی ذمہ داریاں سنبھالیں اس کے بعد آپ تادم آخر جامعہ کراچی سے وابستہ رہے۔ جامعہ کراچی میں ڈاکٹر صاحب نے ڈین کی حیثیت سے ماس کمیونیشن اور لائبریری سائنس کے شعبہ جات کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ شہر کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تعلیم ،سیاست اور تاریخ کے حوالے سے معتبر حوالہ تصور کیے جاتے تھے۔ کتاب اور کتب خانوں سے انہیں بے عقیدت اور لگاؤتھا، جامعہ کراچی میں نہ صرف شعبہ کا قیام بلکہ 1967میں قائم ہونے والے پاکستان لائبریری ایسو سی ایشن کے اولین صدر بھی منتخب ہوئے اور تا دم آخر اس کے صدر رہے۔ جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری کو ڈاکٹر صاحب کے نام سے معنون کیا گیا جو اب ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کہلاتی ہے۔

ڈاکٹر محمود حسین اردو اور انگریزی کے علاوہ جرمن اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ ان کی تصانیف میں انگریزی سے اردو ترجمہ شدہ تصانیف زیادہ مشہور ہیں ان میں معاہدہ عمرانی ، بادشاہ، فتح مجاہدین، The Quest for an Empireاور دیگر شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمود حسین جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی فضاؤں سے اپنے دل و دماغ کو معطر کیے ہوئے تھے، وہ مولانا محمد علی جوہر جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی تھے سے بھی بہت متاثر تھے، ڈاکٹر زاکر حسین کا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلق بھی ڈاکٹر محمود حسین کے دل و دماغ میں سمایا ہوا تھا پھر وہ از خود اس ادارے کے فارغ التحصیل بھی تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی طرز پر کراچی میں اپنے ہم مزاج ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ ملیر کی بنیاد رکھی اور اس کے اولین سربراہ ہوئے۔ بقول پروفیسر صادق علی خان صاحب ایک ادارہ ’’مجلس تعلیم ملی ‘ کے نام سے قائم تھا اس ادارے نے جامعہ ملیہ ملیر کی بنیاد رکھی، ڈاکٹر محمود حسین بھی اس ادارے میں پیش پیش تھے۔ ملیر کراچی کا ایک سرسبز اور خوبصورت علاقہ تھا ، جہاں اس ادارے کے لیے زمین حاصل کی گئی اور اس کی عمارت تعمیر ہوئے، ابتدائی تعلیم، فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم تک کے مواقع یہاں موجود تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو نے تمام تعلیمی اداروں کو قومی ملکیت میں لے لیا اس عمل سے یہ ادارہ بھی حکومتی کنٹرول میں چلا گیا ۔ جامعہ ملیہ کالج، جامعہ ملیہ ٹیچر ٹریننگ کالج حکومتی سرپرستی میں تعلیمی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمود حسین کے ساتھیوں نے کچھ حصہ کو جامعہ ملیہ کے تحت محفوظ کرا لیا ہے جہاں پر تعلیم کا عمل جاری و ساری ہے۔

پروفیسر صادق علی خان صاحب جو ڈاکٹر محمود حسین کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اب نجی جامعہ ملیہ کے اداروں سے وابستہ رہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمود حسین کے بعد ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی جامعہ ملیہ ملیر کے نائب صدر ہوئے اور وہ یعنی صادق علی خان صاحب اس کے سیکریٹری تھے۔ اس وقت یہ ادارہ قائم ہے، اس کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل سعد صاحب ہیں جو جامعہ کراچی کے رجسٹرار بھی رہ چکے ہیں۔اس ادارے نے ’ڈاکٹر محمود حسین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ‘ قائم کیا ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارے خواہ نجی حیثیت میں کام کریں یا سرکاری سرپرستی میں اپنے بانی کے نام سے جڑے رہیں گے ، ڈاکٹر محمود حسین کا نام جامعہ ملیہ ملیر اور جامعہ کراچی سے ہمیشہ وابستہ رہے گا۔تاریخ ان تاریخ دانوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی ۔یہ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔

ڈاکٹر محمود حسین کا انتقال جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ہوا۔ پروفیسر صادق علی خان صاحب کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کی میٹنگ سے فارغ ہوئے تو چند احباب نے ان سے کسی موضوع پر گفتگو کرنا چاہی۔ ڈاکٹر صاحب نے انہیں منع کردیا اور لفٹ کے ذریعہ اپنے دفتر میں واپس آگئے، جہاں پر پروفیسر انیتہ غلام علی ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ صادق علی خان صاحب کہتے ہیں کہ یہ بات محترمہ انیتہ غلام علی نے بتائی کہ ڈاکٹر صاحب اپنے آفس میں تشریف لائے تو کچھ تھکے تھکے لگ رہے تھے، بیٹھتے ہی انہوں نے اپنی شیروانی کے بٹن کھولنا شروع کیے اسی دوران انہیں دل میں درد محسوس ہوا ، فوری طور پر انہیں اسپتال لے جایا گیا، دو تین دن اسپتال میں رہے اور10 اپریل 1975کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانییہ تحریر جناب پروفیسرڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی لکھی ہوئی ہے.

Facebook Comments

POST A COMMENT.