بلاگ : پاکستان کوارٹرز کی حقیقت

KaprayWapray.com

 

اس مسئلے کی حقیقت کی جانب نہ سپریم کورٹ دھیان دے رہی اور نہ ہی عوام کو اس حقیقت سے آگاہی مل رہی ہے۔

اصل معاملہ کچھ اسطرح کا ھے کہ یہ زمین قیام پاکستان سے بہت پہلے متمول ہندوؤں کی ملکیت تھی، جسے 1915 میں 80 سال کی لیز پر مالکانہ حقوق کے ساتھ انہیں دیا گیا تھا۔ 1947

میں تقسیم کے بعد ہندو یہاں سے چلے گئے اور اس طرح 1948 میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی مرضی سے 10 سال کی عارضی شیلٹر بستی یہاں بسائی گئی اور سرکاری ملازمین کے خدمات کے اعتراف میں یہ جگہ رہائش کے لئے انکے حوالے کی گئی اور سرکاری کوارٹرز آباد کئے گئے۔

ایف سی ایریا 45 ایکڑ، پاکستان کوارٹرز، جہانگیر کوارٹرز اور کلیٹن کوارٹرز کا رقبہ کل ملا کر 36 ایکڑ اور پٹیل پاڑہ میں 12 ایکڑ اراضی وغیرہ ملا کر کل 200 ایکڑ زمین سرکاری کوارٹرز قرار دئیے گئے۔

یہ زمینیں چونکہ متروکہ املاک تھیں لہذا کسی ڈپارٹمنٹ یا ادارے کا اس پر کلیم نہیں تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسی زمین جس پر کوئی بھی حق ملکیت نہ ہو، وہ اسی کی ملکیت قرار پاتی ہے جو اس پر رہتا ہو۔ چناچہ ان پر ملکیت کا حق ان میں آباد لوگوں کا ہی بنتا ہے۔

1995 میں لیز کی مدت ختم ہوگئی اور ا کی تجدید کے نوٹس جاری کردئیے گئے، مگر کوئی بھی ہندو تجدید کروانے نہیں آیا۔ یہاں کے رہنے والوں عدالت کو درخواست داخل کرائی کہ ہمیں اس کی ملکیت دی جائے۔

اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں نوٹیفیکشن کے ذریعے گزٹ جاری کیا تھا۔ کہ یہ زمین یہاں کے رہنے والوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ دی جائے گی اور اسطرح اس بارے میں فیصلہ ہوا کہ اس کو کچی آبادیوں کی وزارت کے حوالے کرکے 10 روپے فی گز کے حساب سے زمین وہاں کے رہائشیوں کو الاٹ کردی جائے۔

مگر اس وقت سے آج تک اس حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے تاکہ اس زمین کو اربوں۔ روپے حاصل کر کے انٹرنیشنل مافیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

ہماری اطلاعات کے مطابق انیل مسرت نامی انٹرنیشل بلڈر اور آغا خان گروپ ان قیمتی زمینوں کو خریدنے کے خواہشمند ہیں اور کروڑوں روپے عمران خان کی انتخابی مہم اور میڈیا کیمپین کی مد میں ایڈوانس خرچ کرچکا ہے۔

خاکم بدہن آگے دیکھئیے کیا ہوتا ہے، ہمیں معلوم ہوا کہ لیاری کی قدیم بستی اور لائینز ایریا کے مکانات بھی انٹرنیشنل بلڈرز مافیہ کی نظروں میں ہیں۔

اس مسئلے کو عام کچی بستی یا قبضہ شدہ زمین کے معاملے سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے، جسکی وجہ یہ ہے کہ اس میں رہنے والے سرکاری زمین یا کسی اور کی ملکیت کی زمین پر نہیں بیٹھے، یہ جگہ متروکہ املاک ہے، جس پر بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اس وقت کے سرکاری ملازمین کو، جو ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے، سرکاری خدمات کے اعتراف میں یہ جگہ رہائش کے لئے دی تھی لہذا یہ قبضہ نہیں اور متروکہ املاک پر حکومت سندھ یا پاکستان کا دعویٰ بھی نہیں لہذا اصول تو یہ کہتا ھے کہ ان رہائشیوں کو معقول رقم کے عوض مستقل طور پر لیز کر کے اس مسئلے کو انصاف کیساتھ حل کیا جائے۔

KaprayWapray.com

Facebook Comments

Comments are closed.